صفحات

بدھ، 6 جون، 2018

امام ابو حنیفہؒ پر لعن طعن کرنے والوں کے منہ پر شیخ الحدیث اسماعیل سلفی کا زوردار طمانچہ

سابق امیر جمعیت اہل حدیث پاکستان علامہ محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ  اپنی کتاب فتاوی سلفیہ میں لکھتے ہیں :''جس قدر یہ زمین [زمین کوفہ ]سنگلاخ تھی اسی قدر وہاں اعتقادی اور عملی اصلاح کے لئے ایک آئینی شخص حضرت امام ابو حنیفہ تھے جن کی فقہی موشگافیوں نے اعتزال و تجمم کے ساتھ رفض وتشیع کو بھی ورطہٴحیرت میں ڈال دیا ۔ اللھم ارحمہ واجعل الجنۃ الفردوس ماواہ۔۔۔ ۔ اگر اس پُر فتن دور میں یہ مقدس شخصیت سرزمین کوفہ میں موجود نہ ہوتی تو شاید اس سرزمین کا حشر عاد و ثمود یا قوم لوطؑ جیسا ہوتا۔ ،( فتاوی سلفیہ ،ص:143)


غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
محسن اقبال

بدھ، 30 مئی، 2018

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا، فضائل اعمال کے واقعہ پر اعتراض کا جواب


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا، فضائل اعمال کے واقعہ پر اعتراض کا جواب
’’حافظ ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ ، حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں ایک دفعہ باہر جا رہا تھا۔ میں نے ایک جوان کو دیکھا کہ جب وہ قدم اٹھاتا ہے یا رکھتا ہے تو یوں کہتا ہے: اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ اٰل محمد۔ میں نے اس سے پوچھا کیا کسی علمی دلیل سے تیرا یہ عمل ہے؟ (یا محض اپنی رائے سے) اس نے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے کہا: سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ۔۔میں نے پوچھا یہ درود کیا چیز ہے؟ اس نے کہا، میں اپنی ماں کے ساتھ حج کو گیا تھا۔ میری ماں وہیں رہ گئی (یعنی مر گئی) اس کا منہ کالا ہو گیا اور اس کا پیٹ پھول گیا جس سے مجھے یہ اندازہ ہوا کہ کوئی بہت بڑا سخت گناہ ہوا ہے۔ اس سے میں نے اللہ جل شانہ کی طرف دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو میں نے دیکھا کہ تہامہ (حجاز) سے ایک ابر آیا اس سے ایک آدمی ظاہر ہوا۔ اس نے اپنا مبارک ہاتھ میری ماں کے منہ پر پھیرا جس سے وہ بالکل روشن ہو گیا اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو ورم بالکل جاتا رہا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ کون ہیں کہ میری اور میری ماں کی مصیبت کو آپ نے دور کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں تیرا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ میں نے عرض کیا مجھے کوئی وصیت کیجئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی قدم رکھا کرے یا اٹھایا کرے تو اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ اٰل محمد ۔ پڑھا کر۔ (نزہۃ) ۔ ‘‘ [فضائل درود ص ۱۲۳-۱۲۶، تبلیغی نصاب ص ۷۹۳، ۷۹۴)
ایسا ہی واقعہ امام قسطلانیؒ نے مسالک الحنفا الی مشارع الصلوٰۃ علی لمصطفی ٰصلی اللہ علیہ وسلم صفحہ 164،165 پر نقل کیا ہے،شیخ عبدالرحمٰن اصفوری شافعیؒ کی کتاب نزہۃ المجالس صفحہ 96، امام ابن بشکوال نے القربہ صفحہ96 پر، امام یافعی یمنیؒ نے روض الریاحین میں ، امام اور غیر مقلدین کے نواب صدیق حسن خان نے کتاب التعویذات صفحہ 67 پر نقل کیا ہے۔
مولانا ذکریا نے فضائل اعمال کا واقعہ نزہۃ المجالس سے نقل کیا اور اس کا حوالہ بھی دیا لیکن غیر مقلدین نے یہ ظاہر کیا کہ یہ واقعہ مولانا زکریاؒ نے خود بنایا ہے۔ غیر مقلدین کو چائیے کہ اگر کسی کتاب سے واقعہ نقل کرنا گستاخی ہے تو علامہ قسطلانی، امام ابن بشکوال، عبدالرحمان صفوری الشافعی، امام یافعی یمنی اور نواب صدیق حسن خان پر بھی گستاخی کا فتوی لگائیں جنہوں نے ایسا ہی واقعہ 
اپنی کتب میں بیان کیا ہے۔






غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ، محسن اقبال


ہفتہ، 26 مئی، 2018

علمائے احناف اور آٹھ تراویح!! غیر مقلدین کے اعتراضات کا جواب

اکثر غیر مقلدین کی طرف سے علمائے احناف کے حوالہ جات پیش کئے جاتے ہیں کہ بعض علمائے احناف آٹھ تراویح کے قائل ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ غیر مقلدین اکثر علمائے احناف کے ادھورے حوالے دیتے ہیں اور حوالوں میں خیانت کر کے لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
ان شاء اللہ غیر مقلدین کے دئے گئے ان حوالوں کی حقیقت اس جواب میں آپ لوگوں کے سامنے ہو گی۔

 رکعت تراویح پہ مولانا زکریا کاندھلویؒ کا مسلک اور غیر مقلدین کی خیانت 
ایک غیر مقلد عالم الطاف الرحمان جوہر نے تراویح کے بارے میں ایک کتاب لکھی جس میں مولانا زکریاؒ کے بارے میں غیر مقلد عالم نے دعوی کیا کہ وہ 8 رکعت تراویح کے قائل ہیں اور 20 رکعت تراویح کے قائل نہیں ہیں۔

غیر مقلد عالم لکھتا ہے کہ '' مولانا زکریاؒ 8 رکعت تراویح کی سنت کا اعتراف کرتے ہوئے اور 20 رکعت کا رگڑا لگاتے ہوئے لکھتے ہیں ''یقیناََ محدثین کے اصولوں کے مطابق بیس رکعت تراویح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفاعاََ ثابت نہیں بلکہ ابن عباس رضی اللہ والی روایت محدثین کے اصولوں کے مطابق مجروح ہے اور ثابت نہیں''(تراویح کا مقدمہ حنفی فقہاء کی عدالت میں،صفحہ 15) 
غیر مقلد عالم نے مولانا زکریا ؒ کی ادھوری عبارت نقل کی کیونکہ مکمل عبارت میں مولاناؒ لکھتے ہیں کہ''لیکن باوجود اس کے فعلِ عمر اور سکوتِ صحابہ کی بنا پر اس کے ثابت ہونے کا انکار نہیں کیا جا سکتا،ان تمام صحابہ کا بیس رکعت پر (اجماع کرنا نص کے درجے میں ہے ۔''(اوجزالمسالک،ج2 صفحہ 534

مولانا زکریاؒ تو عمر رضی اللہ اور باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع نقل کر رہے ہیں جس کو غیر مقلد عالم نے نقل نہیں کیا اور ادھوری عبارت پیش کر دی۔ اسی کتاب میں مولانا زکریاؒ 20 رکعت تراویح کے دلائل پیش کرر ہے ہیں ۔
پس غیر مقلد عالم کا مولانا زکریاؒ پہ بیس رکعت تراویح کے رد کا دعوی اور 8 رکعت کے قائل ہونے کا دعوی غلط اور جھوٹا ہے۔


علامہ بدرالدین عینی اور غیر مقلدین کا دھوکہ
علا مہ بدر الدین عینی کی کتاب عمدہ القاری کے حوالے سے یہ دهوکا دینےکی کو شش کی گئ ہے کہ وہ بھی آٹھ رکعت کو صحیح سمجھتے ہیں۔
ہم اس عبارت کی پوری وضاحت آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔علامہ عینی رحمہ اللہ عمدۃ القاری )جلد:3 ص:597(میں فرماتے ہیں: فإن قلتلم يبين في الروايات المذكورة عدد الصلاة التي صلاها رسول الله فيتلكالليالي قلت روى ابن خزيمة وابن حبان من حديث جابر رضي الله تعالى عنهقال صلى بنا رسول الله في رمضان ثمان ركعات ثم أوتر۔اگر توسوال کرےکہ جو نماز آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے تیں راتوں میں پڑھائی تھی اس میں تعداد کا ذکر نہیں تو میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے علاوہ وتر آٹھ رکعتیں پڑھائی تھیں۔

جواب:دراصل آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے دو اروایات مروی ہیں، ایک آٹھ کیاوردوسری بیس کی۔ علامہ عینی رحمہ اللہ نے دیانتداری کا مظاہرہ فرماکرآٹھ رکعت والی روایت نقل فرمائی اور بیس والی روایت کی نفی بھی نہیں کی۔لیکن اپنے عمل کا مدار اس آٹھ رکعت والی روایت پر نہیں رکھا بلکہ مدارعمل حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی روایات ]جو بیس رکعت کو بیان کرتی ہیں[کوبنایا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ علامہ عینی رحمہ اللہ کے ہاں آٹھ رکعت والی روایات معمول بہا نہیں ہے۔اب ہم علامہ عینی رحمہ اللہ کی اس تصریحا ت کو پیش کرتے ہیں کہ آپ کے ہاں تعداد رکعت تراویح بیس ہیں۔

عشرون وحكاه الترمذي عن أكثر أهل العلم فإنه روى عن عمر وعلي وغيرهمامن الصحابة وهو قول أصحابنا الحنفية )ترجمہ:بیس رکعت تراویح، اما م ترمذی رحمہ اللہ نے اکثر اہل علم کا موقف یہی بیان کیا ہے، اس لیےکہ حضرت عمر ، حضرت علی اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں اور یہی ہمارے حضرات حنفیہ کا قول ہے۔(عمدۃ القاری،ج8،245)
ان عددھا عشرون رکعۃ۔(عمد ۃ القاری ج 5ص 458) ترجمہ:تراویح بیس رکعت ہے۔
آپ نے اپنے عمل کا مدار اس آٹھ رکعت والی روایت پر نہیں رکھا بلکہ مدارعمل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل کو بنایا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:واحتجأصحابنا والشافعية والحنابلة بما رواه البيهقي بإسناد صحيح عن السائب بنيزيد الصحابي قال كانوا يقومون على عهد عمر رضي الله تعالى عنه بعشرينركعة وعلى عهد عثمان وعلي رضي الله تعالى عنهما مثله )
ترجمہ:ہمارے حضرات حنفیہ نے، شافعیہ
اور حنابلہ نےاس حدیث کو دلیل بنایا ہے جو امام بیہقی رحمہ اللہ نے حضرتسائب بن یزید صحابی رضی اللہ عنہ سے سند صحیح سے روایت کی ہے کی حضرتسائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: صحابہ رضی اللہ عنہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بیس رکعت پڑھتے تھے اور حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہماکے دور میں بھی اتنی رکعت ]بیس[پڑھتے تھے۔(ج7،258)
علامہ ابن ہمام حنفی رح اور تراویح
اکثر غیر مقلدین کی جانب سے ابن ہمام حنفی رح کا ایک حوالہ پیش کیا جاتا ہے کہ ابن ہمامؒ کےنزیدیک بیس تراویح ثابت نہیں ہیں۔

جبکہ اصل میں حقیقت یہ ہے کہ غیر مقلدین اپنی پرانی روش کو اختیار کرتے ہوئے مکمل عبارت پیش نہیں کرتے۔
علامہ ابن ہمام ؒ 20 تراویح کا انکار نہیں کرتے بلکہ اس کو تسلیم کرتے ہیں لیکن علامہ ابن ہمامؒ 8 کو سنت اور باقی کو مستحب تسلیم کرتے ہیں۔ غیر مقلدین کا یہ کہنا کہ علامہ ابن ہمامؒ 20 تراویح کا انکار کرتے ہیں غلط ہے۔
علامہ ابن ہمامؒ جہاں 8 رکعت کو سنت تسلیم کرتے ہیں اسی سے پہلے یہ بیان کرتے ہیں کہ
''ہاں بیس تراویح ثابت ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے، یزید بن رومان سے موطا میں روایت ہے کہ کہا لوگ حضرت عمر رضی اللہ کی خلافت کے دور میں بیس رکعت پڑھتے تھے یعنی تین وتر سمیت۔اور امام بہیقیؒ نے معرفۃ السنن والاثار میں سائب بن یزید سے روایت کیا ہے کہ ہم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعت تراویح اور وتر پڑھتے تھے ، علامہ نووی شافعی نے خلاصہ میں فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔'' ( فتح القدیر، جلد 1 صفحہ 485)۔
تویہاں ابن ہمامؒ تسلیم کر رہے ہیں کہ بیس تراویح ثابت ہیں۔
باقی علامہ ابن ہمام ؒ کا صرف اٹھ کو سنت کہنا ان کا اپنا تفرد ہے اور علامہ کشمیریؒ اور عبد الحی لکھنوی ؒ نے تسلیم کیا ہے کہ یہ ان کا اپنا تفرد ہے جو قابل اعتبار نہیں۔
خود غیر مقلدین کے اکابر بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ابن ہمامؒ کے تفرد کو احناف قبول نہیں کرتے۔
غیر مقلدین کے مشہور عالم ارشاد الحق اثری علامہ ابن ہمام ؒکے تفردات کے بارے میں کہتے ہیں کہ
''علامہ ابن ھمام حنفی کو فقہ حنفی میں اجتہادی مقام حاصل تھا اور انہوں نے کئی مسائل میں اپنے ہم فکر علماء سے اختلاف کیا ہے لیکن ان کے اختلاف کو خود علمائے احناف نے بنظر استحسان نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔لہذا حنفی مذھب کے خلاف ان کا جو بھی قول ہو گا وہ قابل قبول نہیں ہو گا چہ جائیکہ اسے حنفی مذہب باور کر لیا جائے۔'' ( توضیح الکلام، جلد 2 صفحہ 546)۔۔

یہاں غیر مقلدین کے مستند عالم نے خود تسلیم کر لیا کہ ابن ہمامؒ کا تفرد احناف کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے تو پھر مسئلہ تراویح میں بھی ان کے تفرد کو بار بار پیش کرنا غیر مقلدین کے لئے جائز نہیں۔
مولانا خلیل احمد سہارنپوری اور غیر مقلدین کا دھوکہ
کیا مولانا خلیل احمد سہارنپوری آٹھ رکعت تراویح کے قائل تهے
مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ کا جو حوالہ نقل کیاگیا ہے اسکو انگریزی میں کہتے ہیں آوٹ آف کانٹیکسٹ بات کو پیش کرنا ، دوسری بات یہ ہے کہ
مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ یہاں تراویح کا آٹھ ہونا ثابت نہیں کر رہے بلکہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ تراویح کو بدعت کوئی بھی نہیں مانتا اسی لیے انہوں نے یہ الفاظ استعمال کیے حضرت سہارنپوریؒ نے لکھا ہے کہ
سنت موکدہ ہونا تراویح کا آٹھ رکعت تو باتفاق ہے اگر خلاف ہے تو بارہ میں ہے۔
یعنی جو لوگ تراویح کو کم سے کم بھی سنت موکدہ مانتے ہیں وہ آٹھ کو مانتے ہیں یعنی انکے زمانے میں کوئی بھی ایسا شخص نہ تھا جو یہ کہتا ہو کہ تراویح سنت موکدہ نہیں اور وہ اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔
اور اسی کتاب کے صفحہ آٹھ پر لکھا ہے کہ تراویح آٹھ سے زیادہ کو بدعت کہنا قول کسی عالم کا نہیں بلکہ سفہا کا ہے ۔ یعنی بیوقوفوں کا.

مولانا عبدالحئی الکھنوی اور بیس تراویح
علامہ عبدالحئی لکھنویؒ فرماتے ہیں

ان مجموع عشرین رکعۃ فی التراویح سنۃ موکدۃ؛ لانہ مماواظب علیہ الخلفاء وان لم یواظب علیہ النبی صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، وقد سبق ان سنۃ الخلافاء ایضاً لازم الاتباع وتارکھا اثم ، وان کان اثمہ دون اثم تارک السنۃ النبویۃ، فمن اکتفی علی ثمان رکعات یکون مسیا لترکہ سنۃ الخلافاء، ون شئت ترتیبہ علی سبیل القیاس فقل: عشرون رکعۃ فی التراویح مما واظب علیہ الخلافء الراشدون ، وکل ما واظب علیہ الخلفاءالراشدون فھو سنۃ موکدۃ، والتراویح عشرون رکعۃ سنۃ موکدۃ، ینتج عشرون رکعۃ فی التراویح سنۃ موکدۃ ثم تضمہ مع " ان کل سنۃ موکدۃ یاثم تارکھا"، فالعشرون رکعۃ یاثم تارکھا وقدمات ھذا القیاس قد ثبتنا ھا بالدلائل"
بیس رکھعات تراویح سنت موکدہ ہے، اس لئے کہ اس پر صحابہ کرام نے ، مواظبت کی ہے اگرچہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے مواظبت نہیں فرمائی اور پہلے بات گزر چکی ہے کہ خلفاء راشدین کی سنت بھی لازم الاتباع ہے اور اسے چھوڑنے والا گناہ گار ہے۔ اگرچہ سنت خلفاء کے چھوڑنے کا گناہ سنت نبویہ کے چھوڑنے کے گناہ سے کم ہے اور جو آٹھ رکعات تراویح پر اکتفاء کرتا ہے وہ خلفاء راشدین کی سنت کا تارک ہونے کی وجہ سے گناہ گار ہو گا "(تحفۃ الاخیار صفحہ ۳۰۸
مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ کا اپنا موقف اور عمل کیا ہے؟؟ ان کی کتب سے واضح ہے کہ وہ بیس رکعت ہی کو سنت مانتے ہیں۔ تصریحات پیش خدمت ہیں:
ثبت اھتمام الصحابۃ علی عشرین فی عھد عمر و عثمان و علی فمن بعدھم اخرجہ مالک و ابن سعد البیھقی و غیر ھم و ما واظب علیہ الخلفاء فعلا او تشریفا ایضا سنۃ لحدیث علیکم بسنتی و سنت الخلفاء الراشدین اخرجہ ابو داود و غیرہ[عمدۃ الرعایۃ ج1 ص175]
ترجمہ:عہد عمر ، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم اور اس کے بعد بھی صحابہ کرام کا بیس رکعت پر اہتمام ثابت ہے، اسے امام مالک، ابن سعد اور بیہقی و غیرہ نے نقل کیا ہے۔اور جس پر خلفاء راشدین نےفعلا یا قولا مواظبت کی ہو وہبھی سنت ہےکیونکہ ابو داود وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ تم پر میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے۔
(ان مجموع عشرین رکعۃ فی التراویح سنۃ موکدہ۔( ترجمہ:تراویح بیس رکعت سنت موکدہ ہے۔
(فمن اکتفی علی ثمان رکعات یکون مسیئا (ترجمہ:جو شخص آٹھ رکعت پر اکتفا کرے وہ برا کام کرنے والا ہے۔
(عشرون رکعۃ یاثم تارکھا۔ (ترجمہ:بیس رکعت کا تارک گنہگار ہو گا۔
شیخ عبد الحق رحمہ اللہ کی کتاب "فتح الرحمن" کے حوالے سے لکھتے ہیں
فالظاہر انہ قد ثبت عندھم صلوۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم عشرین رکعۃ کما جاء فی حدیث ابن عباس فاختارہ عمر۔[تحفۃ الاخیار ص211]
ترجمہ: پس یہ بات ظاہر ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز بیس رکعت ثابت ہے جیسا کی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنایا ہے ۔
ایک بات یاد رکھیں کہ بعض مرتبہ ایک محدث کسی حدیث کو سند کے اعتبار سےصحیح کہ دیتا ہے لیکن عمل اس پر نہیں کرتا بلکہ سند کے اعتبار سے جہ اس سے کم درجہ کی ہو اس پر کرتا ہے۔ جیسے صحیح بخاری میں ران کے ستر ہونے کے مسئلہ میں امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
(و حدیث انس اسند و حدیث جرھد ھذا احوط حتی نخرج من اختلافھم۔[صحیح بخاری ج1 ص53
ترجمہ:حضرت انس کی حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے لیکن حضرت جرھد کی حدیث[جس میں ران کے ستر ہونے کا ذکر ہے] میں احتیاط زیادہ ہے،[اس لیے اس پر عمل کریں گے] حتی کہ اختلاف سے بچ جائیں۔
مولانا عبد الحئی لکھنوی رحمہ اللہ نے حدیث جابر رضی اللہ عنہ کو صحیح کہا لیکن عمل حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ پر کیا[جو بیس رکعت کے متعلق ہے] گویا امام بخاری رحمہ اللہ کے طرز کے مطابق احتیاط کا پہلو اختیار فرمایا ہے کہ بیس میں آٹھ تو ادا ہو جائیں گی لیکن آٹھ میں بیس کی ادائیگی ناممکن ہے۔۔

ملا علی قاریؒ اور بیس تراویح
ملا علی قاریؒ کا موقف پیش کرنے میں سخت خیانت سے کام لیا گیا ہے ۔ملا علی قاریؒ نے تو اسی کتاب میں یہ لکھا ہے :۔
اجمع الصحابۃ علی ان التراویح عشرون رکعۃ

صحابہ کا اس بات پر اجماع ہوا کہ تراویح بیس رکعات ہیں
(مرقاۃ المفاتیح، باب شھر رمضان الفصل الثالث جلد ۳ صفحہ ۳۷۲)
اسی طرح شرح النقایہ میں فرماتے ہیں
فصار اجماعاً لماروی البیھقی باسناد صحیح انھم کانوا یقومون علی عھد عمر بعشرین کعۃ وعلی عھد عثمان و علی
شرح النقایہ ، فصل فی الوتر والنوافل جلد ۱ صفحہ ۱۰۴)
لا علی قاری رحمہ اللہ نے واضح طور پر بیس کی روایات نقل کی ہیں جو ان کے موقف[ بیس رکعت]کی واضح دلیل ہیں۔ چند عبارات ملاحظہ ہوں:
1: والذي صح أنهم كانوا يقومون على عهد عمر بعشرين ركعة
[مرقاۃ ج 4 ص 435]
ترجمہ:صحیح سند سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بیس رکعت پڑھتے تھے۔
2: أجمع الصحابة على أن التراويح عشرون ركعة
[مرقاۃ ج 4 ص 441]
ترجمہ:صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا اجماع ہے کہ تراویح بیس رکعت ہے۔
3: فصار اجماعا لما روی البیھقی باسناد صحیح انھم کانوا یقومون علی عھد عمر بعشرین رکعۃ وعلی عھد عثمان و علی رضی اللہ عنھم
[شرح النقایہ ج1 ص 342]
ترجمہ:پس اجماع ہو گیا،کیونکہ بیھقی میں سند صحیح کے ساتھ مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں بیس رکعت پڑھتے تھے، ایسے ہی خلافت عثمانی اور خلافت علی میں بھی۔
4: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور مبارک میں بیس رکعت تراویح کی دلیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں؛
و کانہ مبنی علی ما رواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ و الطبرانی من حدیث ابن عباس انہ علیہ الصلاۃ والسلام کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ سوی الوتر۔
[شرح النقایہ ج1 ص 342]
ترجمہ: گویا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث پر مبنی ہے جسےامام ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں اور امام طبرانی نے روایت کیا ہے کہ آ پ علیہ الصلاۃ والسلام رمضان میں وتر کے علاوہ بیس رکعت پڑھتے تھے۔
ان واضح تصریحات کی موجودگی میں ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالی کی جانب آٹھ رکعت کا قول منسوب کرنا تعجب انگیز ہے۔

شاہ عبدالحق محدث دہلوی اور غیر مقلدین کا دھوکہ

اہلحدیث حضرات بیس تراویح کے رد میں شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ کا ایک حوالہ بھی پیش کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک بیس تراویح سنت نہیں اور بیس تراویح کی روایت ضعیف ہے۔ 
غیر مقلدین کے عالم نذیر احمد رحمانی کہتے ہیں کہ آٹھ رکعت تراویح سنت ہے اور علمائے حنفیہ کی شہادت کا عنوان دے کر اپنی کتاب انوار المصابیح صفحہ 34 پہ لکھتے ہیں کہ '' شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ کہتے ہیں کہ یعنی محدثین کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ رکعتیں مع وتر پڑھیں جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور منقول ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رح کے زمانے میں بعض سلف کا اسی پہ عمل تھا ، سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کے شوق میں۔'' ( انوار المصابیح، صفحہ 34 بحوالہ ماثبت السنۃ از محدث دہلویؒ)۔
یہاں ان غیر مقلد عالم کی مراد یہ ہے کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی ؒ کے نزدیک بھی 8 رکعت تراویح ہی سنت ہے اور 20 تراویح کی روایت ضعیف ہے۔ 
سب سے پہلے تو شاہ صاحب نے اس بات کی کوئی سند بیان نہیں کی کہ عمر بن عبدالعزیز کے دور میں گیارہ رکعت تراویح ہوتی تھے اور بغیر سند بات غیر مقلدین کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے۔
غیر مقلدین حضرات ہمیشہ کی طرح ادھوری بات ہی پیش کرتے ہیں کیونکہ ان غیر مقلد عالم نے اس عبارت سے پہلی اور اگلی عبارت چھوڑ دی جس سے شاہ محدث دہلوی کا اپنا موقف واضح ہوتا تھا۔
شاہ عبدالحق محدث دہلوی کا جو حوالہ ان غیر مقلد عالم نے پیش کیا بلکہ اسی حوالہ سے اوپر شیخ ؒ اپنا موقف پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ '' ہمارے نزدیک تراویح بیس رکعت ہیں کیونکہ بہیقی نے صحیح اسناد سے روایت کیا ہے کہ وہ لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بیس رکعت پڑھا کرتے تھے اور عثمان رضی اللہ اور علی رضی اللہ کے عہد میں بھی اتنی ہی پڑھتے تھے اور ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں بیس رکعت پڑھیں اور اس کے بعد تین وتر پڑھے لیکن محدث کہتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے اور صحیح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ والی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ رکعت پڑھی'' ( ماثبت السنۃ صفحہ 217)۔
یہاں محدث دہلویؒ نے واضح بیان کیا کہ ان کے نزدیک تراویح بیس رکعت ہیں جو امام بہیقی کی صحیح روایت سے ثابت ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت بھی بیس پہ موجود ہے لیکن محدث اس کو ضعیف کہتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہاں دہلویؒ خود ابن عباس رضی اللہ کی روایت کو ضعیف نہیں کہہ رہے بلکہ ان کا کہنا کے کہ محدث اس روایت کو ضعیف کہتے ہیں۔
اگلی خیانت غیر مقلد عالم نے یہ کی کہ جو حوالہ پیش کیا اس سے اگلی عبارت بھی چھوڑ دی تاکہ حقیقت پتہ نہ چل سکے۔
اسی عبارت سے اگلی عبارت شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ '' عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں گیارہ رکعت پڑھا کرتے تھے اس غرض سے کہ نبی کریم ﷺ سے مشابہت ہو جائے اور گنتی جو ٹھہر گئی ہے صحابہ اور تابعین سے اور ان کے بعد کے لوگوں سے مشہور چلا آتا ہے سو بیس رکعت ہیں'' ( ماثبت السنۃ صفحہ 218)۔
شاہ صاحب نے اگلی عبارت میں ہی وضاحت کر دی کہ صحابہ کرام، تابعین اور انکے بعد لوگوں سے بیس رکعت ہی مشہور ہے جس کو ان غیر مقلد عالم نے بیان نہیں کیا تاکہ لوگوں کو حقیقت پتہ نہ چل سکے۔
اس کے علاوہ شاہ عبدالحق دہلوی ؒ ایک اور جگہ بیان کرتے ہیں کہ 
''صحیح یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو گیاوہ رکعت پڑھی وہ آپ کی تہجد تھی ( یعنی تین وتر، آٹھ رکعت تہجد)، اور ابن ابی شیبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رکعت (تراویح) پڑھی۔( اشعۃ اللمعات، باب قیام شھر رمضان، صفحہ 249)۔
تو شاہ صاحب کا موقف واضح ہو گیا کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کو تہجد مانتے ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بیس تراویح کی روایت کو تراویح مانتے ہیں جیسا کہ خود انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان کے نزدیک تراویح بیس رکعت ہے۔
انور شاہ کشمیریؒ اور بیس تراویح
امام محمد أنور شاه الكشميري الحنفي رحمه الله فرماتے ہیں کہ ائمہ اربعہ میں سے کوئی بهی بیس رکعات سے کم تراویح کا قائل نہیں ہے اور جمہور صحابه کرام کا عمل بهی اسی پر ہے الخ
اورایک دوسرے مقام پر امام محمد أنور شاه الكشميري الحنفي رحمه الله نے فرمایا کہ حضر
ت فاروق الأعظم رضی الله عنه کا یہ فعل سنت ہے اوراسی بیس رکعات تراویح پر ہی عمل برقرار رہا ہے الخ
وقال العلامة محمد أنور شاه الكشميري الحنفي رحمه الله ، لم يقل أحد من الأئمة الأربعة بأقل من عشرين ركعة فى التراويح وعليه جمهور الصحابة الخ
أقول : إن سنة الخلفاء الراشدين أيضاً تكون سنة الشريعة لما في الأصول أن السنة سنة الخلفاء وسنته، وقد صح في الحديث :عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين‘‘ فيكون فعل الفاروق الأعظم أيضاً سنة... واستقر الأمر على عشرين ركعة. اھ۔
العَرف الشذي شرح سنن الترمذي جلد 2 صفحہ 208
علامہ کشمیری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو 20 کا حکم دیا تو ضرور ان کے پاس آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے کوئ اصل صحیح سند سے پہنچی ہو گی اگرچہ وہ ہم تک صحیح سند سے نہ پہنچی ہو۔
علامہ کشمیری کے الفاظ یہ ہیں:
''لا بد من أن يكون لها أصل منه وإن لم يبلغنا بالإسناد القوي۔''
الكتاب : العرف الشذي شرح سنن الترمذي
اور آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ 20 پر اجماع ہے، اس سے کم کا کوئ بھی قائل نہیں۔ علامہ کشمیری کے الفاظ یہ ہیں:
''لم يقل أحد من الأئمة الأربعة بأقل من عشرين ركعة في التراويح ، وإليه جمهور الصحابة رضوان الله عنهم۔''
الكتاب : العرف الشذي شرح سنن الترمذي

شاہ صاحب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی 20 رکعت تراویح کی روایت بیان کر کے فرماتے ہیں کہ '' تلقتۃ الاُمۃ بلقبول'' کہ حضرت عمر کے اس عمل کو امت کی طرف سے تلقی بلقبول حاصل ہے۔۔۔ اور جو 8 رکعت پہ اکتفا کرتا ہے وہ سواد اعظم سے کٹ گیا اور سواد اعظم پہ بدعت کا الزام لگاتا ہے تو وہ اپنا انجام سوچ لے۔۔ (فیض الباری، جلد 3 صفحہ 375)۔۔

امام طحطاویؒ اور غیر مقلدین کے دھوکے کا جواب
اکثر غیر مقلدین امام طحطاویؒ کا حوالہ دیتے ہیں کہ تراویح بیس نہیں بلکہ آٹھ رکعت ہے لیکن غیر مقلدین امام طحطاویؒ کی ادھوری عبارت نقل کرتے ہیں۔
امام طحطاویؒ کے نزدیک حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی بیس تراویح کی روایت ضعیف ہے لیکن اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ ''بیس تراویح ثابت ہے خلفائے راشدین کی مواظبت کی وجہ سے''۔اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ''تراویح بیس رکعت ہے اجماع صحابہ کی وجہ سے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ یہ مکمل جو (بیس رکعت) سنن ہیں وہ مکمل جو فرائض علمیہ و اعتقادیہ کے برابر ہو جائے۔(حاشیہ طحطاوی،1/269/270) 
دوسری کتاب میں بھی لکھتے ہیں کہ ''تراویح بیس رکعت ہیں''( حاشیہ طحطاوی علی رد المختار،1/296)۔
تو امام طحطاوی کا مؤقف واضح ہوا کہ ان کے نزدیک تراویح بیس رکعت اور اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہیں۔

ابن نجیم حنفی اور بیس تراویح 
غیر مقلدین آٹح رکعت تراویح ثابت کرنے کے لئے ابن نجیم حنفی کا حوالہ پیش کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک تراویح آٹھ کعت ہیں لیکن اس حوالہ میں بھی غیر مقلدین خیانت کرتے ہیں۔
ابن نجیم حنفی کے نزدیک تراویح بیس رکعت ہیں ،ابن نجیم حنفی نے اصل میں ابن ہمام کی فتح القدیر سے ان کا قول نقل کیا تھا کہ ان کے نزدیک آٹھ رکعت سنت ہے لیکن غیر مقلدین نے ابن ہمام کے قول کو ابن نجیم حنفی کی طرف منسوب کر دیا۔
ابن نجیم لکھتے ہیں کہ ''بیس رکعت کا لفظ تراویح کی تعداد بیان کرنے کے لئے مصنف نے لکھا ہے اور یہی جمہور کا مؤقف ہے۔اس لئے کہ موطا امام مالک میں یزید بن رومان سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں لوگ تئیس رکعت پڑھتے تھے اوراسی پر شرق و غرب کے لوگوں کا عمل ہے لیکن محقق ابن ہمام نے فتح القدیر میں ذکر کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ دلیل اس بات کو چاہتی ہے کہ ان میں سے سنت اسی قدر ہے جو آپ نے پڑھیں اور فرضیت کے خوف سے جماعت کے ساتھ چھوڑ دیں۔اور ان کی تعداد گیارہ رکعت مع وتر کے ثابت ہے جیسا صحیح بخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا کہ حدیث سے ثابت ہوا''( البحر الرائق،2/117)۔ البحر الرائق کا یہ مکمل حوالہ فتاوی علمائے حدیث جلد 6 میں بھی موجود ہے۔
تو ابن نجیم حنفی کے حوالہ سے ثابت ہوا کہ ان کے نزدیک جمہور کا مسلک بیس تراویح ہے جو شرق و غرب میں پڑھی جاتی ہے اور آٹھ رکعت کا موقف ابن ہمام کا تھا جس کو غیر مقلدین نے ابن نجیم حنفی کی طرف منسوب کر دیا۔
باقی علامہ ابن ہمام ؒ کا صرف اٹھ کو سنت کہنا ان کا اپنا تفرد ہے اور علامہ کشمیریؒ اور عبد الحی لکھنوی ؒ نے تسلیم کیا ہے کہ یہ ان کا اپنا تفرد ہے جو قابل اعتبار نہیں۔
خود غیر مقلدین کے اکابر بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ابن ہمامؒ کے تفرد کو احناف قبول نہیں کرتے۔
غیر مقلدین کے مشہور عالم ارشاد الحق اثری علامہ ابن ہمام ؒکے تفردات کے بارے میں کہتے ہیں کہ
''علامہ ابن ھمام حنفی کو فقہ حنفی میں اجتہادی مقام حاصل تھا اور انہوں نے کئی مسائل میں اپنے ہم فکر علماء سے اختلاف کیا ہے لیکن ان کے اختلاف کو خود علمائے احناف نے بنظر استحسان نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔لہذا حنفی مذھب کے خلاف ان کا جو بھی قول ہو گا وہ قابل قبول نہیں ہو گا چہ جائیکہ اسے حنفی مذہب باور کر لیا جائے۔'' ( توضیح الکلام، جلد 2 صفحہ 546)۔۔
یہاں غیر مقلدین کے مستند عالم نے خود تسلیم کر لیا کہ ابن ہمامؒ کا تفرد احناف کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے تو پھر مسئلہ تراویح میں بھی ان کے تفرد کو بار بار پیش کرنا غیر مقلدین کے لئے جائز نہیں۔


غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
محسن اقبال

جمعہ، 4 مئی، 2018

غیر مقلد علماء کے جھوٹ


غیر مقلد مولانا داؤد ارشد کا کہنا ہے کہ( حافظ حبیب اللہ ڈیروی اپنی کتاب نورالصباح میں لکھتے ہیں کہ''حضرت امام ابو حنیفہؒ نے ترک رفع الیدین والی نماز اپنے استاد حماد سے سیکھی اور انہوں نے ابراھیم نخعی سے اور انہوں نے اسود و علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور انہوں نے حضرت جبرائیل علیہ سلام سے اور حضرت جبرائیل علیہ سلام خدا تعالیٰ سے لے کر آیا۔ فلھذا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ نماز میں رفع یدین نہ کیا کرو۔(نورالصباح،219) یہ روایت ماشاء اللہ ڈیروی صاحب کی ایجاد ہے جس کا وجود کتب حدیث میں قطعاََ نہیں پایا جاتا۔)

یہاں داؤد ارشد صاحب نے مولانا ڈیرویؒ پر الزام لگایا کہ انہوں نے ایک روایت خود ایجاد کی لیکن  اصل میں لوگوں کو دھوکہ داؤد ارشد صاحب نے خود دیا۔ مولانا ڈیرویؒ نے تو غیر مقلد عالم نور حسین گرجاکھی کو الزامی جواب دیا  تھا۔ 
مولانا ڈیرویؒ نے لکھا تھا کہ''مولوی نور حسین گرجاکھی غیر مقلد اپنے رسالہ ''قرۃ العینین '' میں عنوان قائم کرتے ہیں دوسری حدیث صدیقِ اکبر، اور پھر آگے لکھتے ہیں (جس کا خلاصہ ہے) ابن جریح رفع یدین کرتے تھے۔امام عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ ابن جریح نے نماز عطاء سے سیکھی ہے اور عطاء نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے  اور انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور انہوں نے جبرائیل ؑ سے اور جبرائیل ؑ خدا سے لے کر آیا ۔گرجاکھی صاحب نے اس کو حدیث سمجھ کر اپنی جہالت کا ثبوت دیا حالانکہ یہ امام عبدالرزاقؒ کا قول ہے۔۔۔۔۔ اگر اسی کا نام حدیث ہے تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ حضرت امام ابو حنیفہؒ نے ترک رفع الیدین والی نماز اپنے استاد حماد سے سیکھی اور انہوں نے ابراھیم نخعی سے اور انہوں نے اسود و علقمہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور انہوں نے حضرت جبرائیل علیہ سلام سے اور حضرت جبرائیل علیہ سلام خدا تعالیٰ سے لے کر آیا۔ فلھذا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ نماز میں رفع یدین نہ کیا کرو۔

یہاں مولانا ڈیرویؒ نے نور حسین گرجاکھی کو الزامی جواب دیا ہے کہ جیسے نور حسین گرجاکھی کے مطابق  امام عبدالرزاق کے قول حدیث ہے تو اسی اصول کے مطابق ہمارے پاس  امام ابو حنیفہؒ کا قول ہے ، اگر اسی کا نام (یعنی امام عبدالرزاق کا قول) حدیث ہے سے واضح مطلب ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا ڈیرویؒ تو مولوی نور حسین گرجاکھی کو الزامی جواب دے رہے تھے لیکن داؤد ارشد صاحب نے مکمل عبارت پیش نہیں کی اور الزامی جواب کو تحقیق بتا کر مولانا ڈیرویؒ پر  جعلی حدیث گھڑنے کا الزام لگا دیا۔۔۔اس سے ثابت ہوا کہ داؤد ارشد نے مولانا ڈیرویؒ پر جو حدیث گھڑنے کا الزام لگایا وہ بلکل غلط ہے اور خودمولانا داؤد ارشد نے ادھوری عبارت پیش کر کے لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی۔

غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال 


جمعرات، 26 اپریل، 2018

غیر مقلدین کا مولانا اوکاڑویؒ پر قرآن پر بہتان لگانےکے الزام کا جواب


غیر مقلدین کا مولانا اوکاڑویؒ پر قرآن پر بہتان لگانےکے الزام کا جواب

غیر مقلدین نے مولانا اوکاڑویؒ پر اعتراض کیا ہے (کہ مولانا اوکاڑوی نے فتوحات صفدر میں کہا کہ'' قرآن پاک میں یہ ہے کہ ابوجہل کی پارٹی بتوں والی آیتیں نبیوں کے بارے میں پڑھا کرتی تھی ۔قرآن نے انکو بل ھم قوم خصمون کہا'' یہ قرآن میں کہیں نہیں ہے ،اوکاڑویؒ نے قرآن پاک پر صریح جھوٹ بولا ہے۔)

یہ بھی غیر مقلدین کی جہالت ہے کیونکہ اصل میں مماتی مولوی مولانا یونس نعمانی نے مناظرہ میں آیت پیش کی جس کے جواب میں مولانا اوکاڑویؒ نے کہا کہ ''مولوی صاحب کے پاس انبیاء کے بارے میں کوئی واضح آیت نہیں ہے۔مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت بُتوں کے بارے میں ہے۔ قرآن پاک میں یہ ہے کہ ابوجہل کی پارٹی بتوں والی آیتیں نبیوں کے بارے میں پڑھا کرتی تھی ۔قرآن نے انکو بل ھم قوم خصمون کہا۔مولوی یونس صاحب کافروں والا طریقہ اختیار کر چکے ہیں کہ بتوں والی آیتیں نبیوں پر چسپاں کر رہا ہے۔'' (فتوحات صفدر3/407)

مولانا اوکاڑویؒ تو کہہ رہے ہیں کہ جو آیت یونس نعمانی پیش کر رہا ہے مفسرین کے نزدیک وہ آیت بتوں کے بارے میں ہے ۔اور جو حوالہ دیا کہ قرآن میں ہے کہ ابوجہل کی پارٹی بتوں والی آیت نبیوں کے بارے میں پڑھتی تھی تو مولانا اوکاڑویؒ نے تو قران کی آیت کا مفہوم بیان کیا جہاں ابوجہل کی پارٹی سے مراد مشرکین مکہ تھےجو بتوں کی آیات انبیاؑ کے لئے پڑھتے تھے جن کے بارے میں بل ھم قوم خصمون کہا گیا۔ سورۃ الزخرف کی اس آیت کی یہی تفسیر کئی علماء نے بیان کی۔
تفسیر ابن کثیر میں بروایت ابن عباس رضی اللہ موجود ہے کہ ''ابن جریرؒ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس قوم سے مراد قریش (یعنی ابوجہل کی پارٹی) ہے کہ جب قریش سے کہا گیاکہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (یعنی بت) جہنم کا ایندھن ہیں ،تم اس میں داخل ہونے والے ہو۔تو قریش کے لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ ابن مریم علیہ سلام کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے''(تفسیر ابن کثیر،ترجمہ مولانا خالد سیف)

غیر مقلدین کے شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری صاحب بھی اس آیت کی تشریح میں یہی لکھتے ہیں کہ اس سے مخاطب شرفاء مکہ ہیں''(تفسیر ثنائی،222)
غیر مقلدین کی مستند تفسیر احسن البیان میں بھی اس آیت کی تشریح میں یہی بیان کیا گیا جس کا مفہوم ہے کہ ''مشرکین مکہ سے کہا جاتا تھا کہ تمہارے ساتھ تمہارے معبود بھی جہنم میں جائیں گے تو اس سے مراد پتھر کی مورتیاں ہوتی ہیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے'' (تفسیر احسن البیان،1390)
تو واضح ہوا کہ مولانا اوکاڑویؒ نے قرآن کی آیت کا وہی مفہوم اپنے انداز میں بیان کیا جو مفسرین کرتے آئے ہیں لیکن غیر مقلدین نے بغض و حسد میں اس کو قران پر بہتان کا نام دے کر مولانا اوکاڑویؒ پر اعتراض شروع کر دیا۔۔۔۔

غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ سلم
محسن اقبال

پیر، 30 اکتوبر، 2017

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قیاس کو ترجیح دینے کا سبب (فضیلۃ الشیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ حفظہ اللہ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سوال: ایک طالبعلم کا کیا مؤقف ہونا چاہیے  اس بارے میں جو بعض آئمہ کی کتب میں شدید قسم کا طعن آیا ہے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر، جیساکہ امام عبداللہ بن امام احمد رحمہما اللہ کی ’’کتاب السنۃ ‘‘ وغیرہ میں، لہذا اس بارے میں کیا مؤقف ہونا چاہیے؟
جواب: اس قسم کی باتیں لوگوں میں اس سے پہلے معروف نہيں تھیں مگر بعض جاہلوں نے دو دن ہوئے فضائی چینلز پر یہ فتنہ مچا رکھا ہے، ورنہ لوگ اس کی کھوج ہی نہيں کرتے تھے۔ جی امام عبداللہ بن امام احمد رحمہما اللہ کی کتاب السنۃ میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کلام ہے، جو حال میں اس میں داخل کردیا گیا حالانکہ جو اس سے پہلے مطبوعہ نسخہ تھا ا س میں ان میں سے کوئی بھی چیز نہيں تھی، لیکن اب ڈال دی گئی۔
ان سلف کا قصد جنہوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کلام کیا اس پہلو سے بھی تھا کہ آپ قیاس پر اعتماد کرتے ہيں اور آپ کا غالباً انحصار قیاس پر ہوتا ہے۔ جس نے آپ پر مؤاخذہ کیا ہے تو وہ بس اس بات کا کیا ہے کہ آپ قیاس کو (بہت) لیتے تھے۔  حالانکہ اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ قیاس ایک شرعی دلیل ہے، کیونکہ دلائل کے اصول یہ ہیں:
’’کتاب وسنت، اجماع وقیاس‘‘۔
لیکن آئمہ کرام قیاس کی طرف نہيں جاتے الا یہ کہ اس کی ضرورت ہو یعنی جب کتاب وسنت اور نہ ہی اجماع سے کوئی دلیل ملے تو پھر وہ قیاس کا کہتے ہیں۔ جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ قیاس کے معاملے میں کچھ وسعت اختیار فرماتے ہیں، اسی چیز پر ان کا مؤاخذہ کیا گیا اور معیوب گردانا گیا کہ وہ قیاس میں کچھ زیادہ ہی وسعت اختیار فرماتے ہیں۔
بعض محققین نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف سے یہ جواب دیا ہے کہ بلاشبہ آپ عراق میں رہتے تھے اور وہ فتنوں کا وقت تھا، اس دور میں جھوٹ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر احادیث وضع کرنا بڑی شدت سے پھیل گیا تھا، اسی لیے آپ نے قیاس پر اعتماد کیا ان وضاعین (حدیثیں گھڑنے والوں) اور کذابین (جھوٹوں) کے خوف سے، کیونکہ جھوٹ عراق میں بہت پھیلا ہوا تھا، برخلاف حجاز  یعنی مکہ مدینہ کے ، کیونکہ یہاں اہل روایت و اہل حدیث و ماہرین تھے، جبکہ عراق میں جب فرقوں کی بہتات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ اور وضع کی بھی کثرت ہوگئی، پس اس صورتحال میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے قیاس پر اعتماد فرمایا (اور اسی میں عافیت جانی)۔ یہ تھا وہ سبب جس کی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے قیاس میں وسعت اختیار فرمائی۔
بلاشبہ آپ ایک جلیل القدر امام ہیں، اور آئمہ اربعہ میں سے سب سے پہلے ہیں، آپ نے تابعین عظام رحمہم اللہ سے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے علم حاصل فرمایا۔ پس بے شک آپ ایک جلیل القدر امام ہيں، اور آپ کے عقیدے اور دین کے تعلق سے کوئی کلام نہيں  (کہ وہ غلط تھا)، انہوں نے بس اس قیاس میں وسعت اختیار کرنے ہی پر مؤاخذہ فرمایا ہے ، آپ رحمہ اللہ کا مؤاخذہ اس بات پر ہے۔ حالانکہ اس میں بھی آپ معذور تھے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کیونکہ آپ کے وقت میں جھوٹ اور وضع حدیث بہت افشاء ہوچکا تھا، خصوصاً عراق میں، پس آپ اس بات سے بہت ڈرے۔
بہرحال ہم نہیں چاہتے کہ اس قسم کے مسائل پھیلائے جائيں۔ اور ہم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے محبت کرتے ہیں، وہ ہمارے امام ہیں، کیونکہ بلاشبہ وہ اہل سنت والجماعت میں سے ہیں، پس وہ ہمارے امام ہیں اور ہم کبھی بھی ان پر طعن نہيں کرتے۔

ہفتہ، 7 اکتوبر، 2017

مشہور روایت یا سارية الجبل اور غیر مقلد ین کے مستند علماء کی تصدیق

مشہور روایت یا سارية الجبل اور غیر  مقلد ین کے مستند علماء کی تصدیق
کشف کی ایک مثال حضرت امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا ہوا درج ذیل واقعہ ہے ، چنانچہ ایک بار وہ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھےکہ لوگوں نے سنا : آپ کہہ رہے ہیں ، "یا ساریۃ الجبل" اے ساریہ پہاڑ میں پناہ لو ، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا، اور جب آپ سے اسکی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا : میرے سامنے ایسا ظاہر ہوا کہ ساریہ بن زنیم جو آپ کے ایک کما نڈر تھے ۔ دشمنوں کے نرغہ میں ہیں اور انکا رخ پہاڑ کی طرف ہے تو میں نے کہا اے ساریہ پہاڑ پہاڑ ، ساریہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی ، پہاڑ کی طرف متوجہ ہوئے اور اسکی پناہ میں پہنچ گئے ۔ یہ ایک کشف تھا کیونکہ ایسا واقعہ کہیں بہت دور پیش آیا تھا، جسکا انکشاف حضرت عمر پر ہوگیا

امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں ، امام سیوطی نے جامع الاحادیث میں ، امام علی المتقی الہندی نے کنزل العمال میں ، اور امام ابن حجر عسقلانی نے الاصابۃ فی معرفۃ الصحابہ میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ‘ اس روایت کوحافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الإصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ذکر کرنے کے بعد اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے؛ کنز العمال کا متن ملاحظہ کریں ؛
عن ابن عمر قال: وجه عمر جيشا وأمر عليهم رجلا يدعى سارية فبينما عمر يخطب يوما جعل ينادي: يا سارية الجبل - ثلاثا، ثم قدم رسول الجيش فسأله عمر، فقال: يا أمير المؤمنين! لقينا عدونا فهزمنا، فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتا ينادي: يا سارية الجبل - ثلاثا، فأسندنا ظهورنا إلى الجبل فهزمهم الله، فقيل لعمر: إنك كنت تصيح بذلك. "ابن الأعرابي في كرامات الأولياء والديرعاقولي في فوائده وأبو عبد الرحمن السلمي في الأربعين وأبو نعيم عق معا في الدلائل واللالكائي في السنة، كر، قال الحافظ ابن حجر في الإصابة: إسناده حسن".
ترجمہ :حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کو روانہ فرمایا: اور حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ کو اُس لشکر کا سپہ سالار بنایا ، ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ کے درمیان یہ نداء دی کہ یا ساریۃ الجبل ، ائے ساریہ پہاڑ کے دامن میں ہوجاؤ ۔ یہ آپ نے تین دفعہ فرمایا ۔ جب لشکر کی جانب سے قاصد آیاتو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے وہاں کا حال دریافت کیا ؟ اُس نے کہا : ائے امیر المؤمنین ہم نے دشمن سے مقابلہ کیا تو وہ ہمیں شکست دے ہی چکے تھے کہ اچانک ہم نے ایک آواز سنی ، ائے ساریہ پہاڑ کے دامن میں ہوجاؤ ۔ پس ہم نے اپنی پیٹھ پہاڑ کی جانب کرلی تو اللہ تعالی نے دشمنوں کو شکست دے دی ۔ عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی عرض کیا گیا کہ بیشک وہ آواز دینے والے آپ ہی تھے ۔
(دلائل النبوة للبيهقي،حديث نمبر:2655)
(جامع الأحاديث للسيوطي،حرف الياء ،فسم الافعال،مسند عمر بن الخطاب، حديث نمبر:28657)
(كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال لعلي المتقي الهندي،حرف الفاء ، كنز العمال في سنن الأقوال والأفعال، حديث نمبر:35788)
(الإصابة في معرفة الصحابة،لابن حجر العسقلاني،القسم الأول ،السين بعدها الألف)
اس روایت کوحافظ ابن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب الإصابة في معرفة الصحابة میں ذکر کرنے کے بعد اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے ۔



فتاوى اللجنة الدائمة
تصفح برقم المجلد > المجموعة الأولى > المجلد السادس والعشرون (كتاب الجامع 3) > السيرة > قول عمر رضي الله عنه يا سارية الجبل
الفتوى رقم ( 17021 )س: جاء محاضر إلى مدرستنا، وكانت المحاضرة عن كرامات الأولياء والصالحين ، وقال في محاضرته: كان عمر بن الخطاب يخطب على المنبر، فنادى السارية التي أرسلها للحرب، فقال: (يا سارية الجبل) فسمعت السارية كلامه فانزاحت إلى الجبل. علمًا بأن
(الجزء رقم : 26، الصفحة رقم: 41)
بينهما مسافة بعيدة، هل هذه الرواية صحيحة أم خطأ، وهل هي من الكرامات؟
ج : هذا الأثر صحيح عن عمر رضي الله عنه، ولفظه: أن عمر رضي الله عنه، بعث سرية فاستعمل عليهم رجلاً يدعى سارية ، قال: فبينا عمر يخطب الناس يومًا قال: فجعل يصيح وهو على المنبر: يا سارية الجبل، يا سارية الجبل، قال فقدم رسول الجيش، فسأله فقال: يا أمير المؤمنين لقينا عدونا فهزمنا، فإذا بصائح يصيح: يا سارية الجبل، فأسندنا ظهورنا بالجبل فهزمهم الله.
رواه أحمد في (فضائل الصحابة)،
وأبو نعيم في (دلائل النبوة)
والضياء في (المنتقى من مسموعاته)
وابن عساكر في (تاريخه)
والبيهقي في (دلائل النبوة)
وابن حجر في (الإصابة) وحسن إسناده،
ومن قبله ابن كـثير في (تاريخه) قال: إسناد جيد حسن، والهيثمي في (الصواعق المحرقـة) حسن إسناده أيضًا.

وهذا إلهام من الله سبحانه، وكرامة لعمر رضي الله عنه، وهـو المحدث الملهم، كما ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم، وليس في الأثر أنه رضي الله عنه كشف له عن الجيش وأنه رآه رأي العيـن إلى غير ذلك من الروايات الضعيفة التي يتعلق بها غلاة المتصوفة في الكشف، واطلاع المخلوقين على الغيب، وهذا باطل؛ لأن الاطلاع على الغيب من صفات الله سبحانه وتعالى، وما ذكر في السؤال أعلاه مـن أن عمر
(الجزء رقم : 26، الصفحة رقم: 42)
رضي الله عنه نادى السارية التي أرسلها للحرب فسمعت السـارية كلامه فانزاحت للجبل، فهذا جهل في معنى الحديث.وبالله التوفيق، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.

اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
عضوعضوعضوعضوالرئيس
بكر أبو زيد
عبد العزيز آل الشيخ
صالح الفوزان
عبد الله بن غديان
عبد العزيز بن عبد الله بن باز




شیخ صالح العثمین ؒصاحب سے پوچھا گیا کہ یا ساریة الجبل کے واقعہ سے کیا اسباق ثابت ہوتے ہیں؟؟ تو انہوں نےجو جواب دیا اس کا مفہوم ہے کہ ''اس سے امیر المؤمنین عمر بن خطاب رض کی کرامت ثابت ہوتی ہےاور پھر اخیر میں فرمایا کہکرامات اولیاء کا ثبوت بھی اس سے معلوم ہوتا ہے
(آگے کرامت کی تعریف کی ہے)
کہ کرامت ہر اس امر کو کہا جاتا ہے جو خارق للعادة ہو اللہ ج اسے اپنے اولیاء میں سے کسی ولی کے ہاتھ پر جاری فرماتے ہیں اس ولی کی تکریم کی خاطر اور اس راستے کی تصحیح کی خاطر جس پر وہ ولی چلتا ہے اسی وجہ سے ہر ولی کی کرامت ایک نشانی ہے اور معجزہ ہے اس رسول ص کا جسکی اتباع وہ ولی کرتا ہے
(اور پھر تھوڑا سا آگے فرمارہے ہیں)
کہ کرامت کبھی تو ولی پر آئی ہوئی شدت و بلا سے اس ولی کو چھٹکارا دینے کے لئے ہوتی ہے اور کبھی اللہ ج کے دین کے اس امر کے اعزاز کے لئے ہوتی ہے جسکی طرف وہ ولی دعوت دیتا ہے۔(فتاوی نور علی الدرب،جلد 12،صفحہ 268،267)

دوسرا سوال کہ یہ جو روایت بیان کی جاتی ہے کہ عمر بن خطاب رض نے جبکہ وہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے ساریہ رض کو دیکھا اور وہ دشمن کے مقابلے میں جنگ کے میدان میں تھے تو عمر رض نے فرمایا یا ساریة الجبل کیا یہ قصہ واقعی میں رونما ہوا ہے یا ایسے ہی ایک خیال ہے بس شریعت اس متعلق کیا کہتی ہے؟
تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ قصہ مشھور ہے عمر بن خطاب رض سے متعلق
(اور پھر تھوڑا سا آگے فرمارہے ہیں)
کہ اس جیسے واقعات کا شمار کرامات اولیاء میں ہوتا ہے اور اللہ ج اسے اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری فرماتے ہیں انکے دل کی مظبوطی کے لئے اور حق کی مدد کے لئے اور ایسی کرامت گذشتہ امتوں میں بھی موجود ہے اور اس امت میں بھی اور قیامت کے دن تک ہمیشہ رہیگی اور کرامت ایک ایسی شئ ہے جو خارق للعادة ہو اللہ ج اسے ظاھر فرماتے ہیں ولی کے ہاتھ پر اس کے دل کی مظبوطی کے لئے اور حق کی تائیید کے لئے۔


کہ اس جیسے واقعات کا شمار کرامات اولیاء میں ہوتا ہے اور اللہ ج اسے اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری فرماتے ہیں انکے دل کی مظبوطی کے لئے اور حق کی مدد کے لئے اور ایسی کرامت گذشتہ امتوں میں بھی موجود ہے اور اس امت میں بھی اور قیامت کے دن تک ہمیشہ رہیگی اور کرامت ایک ایسی شئ ہے جو خارق للعادة ہو اللہ ج اسے ظاھر فرماتے ہیں ولی کے ہاتھ پر اس کے دل کی مظبوطی کے لئے اور حق کی تائیید کے لئے۔

یہ حدیث صحیح ہے یا حسن ہےامام بیہقیؒ نے دلائل النبوۃ(2/181) میں نقل کیا ہے۔جیسے کہ مشکٰوۃ(2/546)رقم:59054 باب الکرامات میں ہے،امام ابن کثیرؒ نے البدایہ والنہایہ:7/131 میں،ابن عساکرؒ نے (7/6۔1)،(13/23۔2)میں،الضیاءؒ نےالمنتقی من مسموعاۃ بمرو(ص:28۔29)میں ابن الاثیرنے اسد الغایہ (5/68) میں ذکر کیا ہے۔
اورالسلسلۃالصحیحہ(3/101)(رقم1110) میں نافع سے مروی ہے کہ یقیناً عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ نے کہا"یا ساریۃالجبل،یاساریۃالجبل"اے ساریہ رضی اللہ عنہ پہاڑ کو لازم پکڑ!اے ساریہ پہاڑ کو لازم پکڑ! تو اس وقت جمعہ کے دن ساریہ رضی اللہ عنہ پہاڑ کی طرف حملہ کر رہے تھے۔اور اس کے اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک مہینے کی مسافت تھی۔
جو اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں وہ غلطی پر ہیں،اس حدیث کی متعدد سندیں ہیں اور یہ خطبہ جمعہ دوران تھی نیند نہیں تھی۔رہا وہ کشف جو صوفیاء خیال کرتے ہیں تو وہ باطل ہےاور یہ کرامت تھی اور یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے انہیں الھام ہوا تھا،آپ کےمنہ سے سمجھ کے بغیر صادر ہو گیا تھا۔تفصیل کے لیے مراجعہ کریں،السلسلہ۔فتاویٰ الدین الخالص، امین پشاوری (ج1ص212)



محمد بن عجلان صدوق راوی ہے ، نافع سے اس کی روایت میں تدلیس کا خدشہ بھی ہو تو انہوں نے صراحت کردی ہے کہ یہ روایت انہوں نے ایاس بن معاویہ بن قرۃ ( جو کہ ثقہ راوی ہیں ) سے بھی سماعت کی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں لالکائی کی شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة (7/ 1409)
2537 - أنا الْحَسَنُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ: أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ، قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: نا أَبُو عَمْرٍو الْحَارِثُ بْنُ [ص:1410] مِسْكِينٍ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: أنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ "، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَعَثَ جَيْشًا أَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعَى سَارِيَةَ. قَالَ: فَبَيْنَا عُمَرُ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمًا، قَالَ: فَجَعَلَ يَصِيحُ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «يَا سَارِيَ الْجَبَلَ، يَا سَارِيَ الْجَبَلَ» . قَالَ: فَقَدِمَ رَسُولُ الْجَيْشِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَقِينَا عَدُوَّنَا فَهَزَمْنَاهُمْ، فَإِذَا بِصَائِحٍ يَصِيحُ: «يَا سَارِيَ الْجَبَلَ، يَا سَارِيَ الْجَبَلَ» ، فَأَسْنَدْنَا ظُهُورَنَا بِالْجَبَلِ، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ ". فَقِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «إِنَّكَ كُنْتَ تَصِيحُ بِذَلِكَ» قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ: وَحَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ بِذَلِكَ
لہذا جن اہل علم نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے ، ان کی بات درست محسوس ہوتی ہے ، علامہ زرکشی فرماتے ہیں :
وَقد افرد الْحَافِظ قطب الدّين عبد الْكَرِيم الْحلَبِي لهَذَا الحَدِيث جُزْءا ووثق رجال هَذِه الطَّرِيق ۔حافظ قطب الدین حلبی مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے ، جس میں اس واقعہ کے سارے طرق جمع کیے ہیں ، اور اس طریق کے تمام رجال کو ثقہ قرار دیا ہے ۔(التذكرة في الأحاديث المشتهرة = اللآلئ المنثورة في الأحاديث المشهورة (ص:166)۔علامہ سیوطی فرماتے ہیں ''وألف القطب الحلبي في صحته جزءاً۔قطب الحلبی نے مستقل رسالے میں اس کی صحت کو ثابت کیا ہے ۔(الدرر المنتثرة في الأحاديث المشتهرة (ص: 211)

البانی رحمہ اللہ نے (تحقيق الآيات البينات في عدم سماع الأموات (ص: 112) میں اس کی سند کو ’’ جید حسن ‘‘ کہا ہے ، جبکہ سلسلہ صحیحہ میں اس پر طویل گفتگو کی ہے ، اور اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ واقعہ صرف ابن عجلان کی سند سے صحیح ہے ، لہذا دیگر اسانید میں جو اضافے ہیں ، اور جن سے اہل بدعت لوگ اپنے بدعی نظریات کے ثبوت کی دلیل لیتے ہیں ، بالکل درست نہیں

بن کثیر نے اس کی سند کو جید کہا اور مختلف طریق بیان کرنے کے بعد کہا کہ یہ طریق ایکدوسرے کو قوت دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابن عجلان کے طرق کو علامہ البانی نے حسن کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علامہ ابن حجر نے الاصابہ میں سن کو حسن کہا۔۔
ابن ھیثمی نے صواعق المحرقہ مین حسن کہا۔
ابن باز، صالح الفوزان، عبدالعزیز الشیخ نے فتاوی اللجنہ دائمہ میں اس کو صحیح قرار دیا۔۔
صالح العثیمن نے شرح عقیدہ واسطیہ میں اور فتاوی نور علی الدرب میں اس واقعہ کو کشف و کرامات کے طور پر تسلیم کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امین پشاوری نے فتاوی دین الخالص میں اس کو صحیح قرار دیا اورکہا کہ جو اس کو ضعیف کہتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔


عن ابنِ عمرَ قال وجَّهَ عمرُ جيشًا ورأَّسَ عليهم رجلًا يُدعى ساريةَ فبينا عمرُ يخطبُ جعل يُنادي يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا ثم قدم رسولُ الجيشِ فسألَه عمرُ فقال يا أميرَ المؤمنين هُزمنا فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتًا يُنادي يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا فأسندنا ظهْرَنا إلى الجبلِ فهزمَهُمُ اللهُ تعالَى قال قيل لعمرَ إنك كنتَ تصيحُ بذلك ـ(الإصابة في تمييز الصحابة (ابن حجر العسقلاني) - الصفحة أو الرقم: 2/3 (الجزء 3 - الصفحة 5،)كشف الخفاء (العجلوني) - الصفحة أو الرقم: 2/515) المصدر: البداية والنهاية (ابن كثير) - الصفحة أو الرقم: 7/135)السلسلة الصحيحة (الألباني) - الصفحة أو الرقم: (3/101) 1110،)خلاصة حكم المحدث: إسناده حسن۔كرامات أولياء الله عز وجل للالكائي (سنة الوفاة:418) » ذكر فضائل الصحابة وغيرهم » سياق مَا روي من كرامات أمير المؤمنين أَبِي حفص عُمَر ... رقم الحديث: 49)
علامہ ابن قیم رح اس کو "کشف" میں شمار کرتے لکھتے ہیں:
والكشف الرحماني من هذا النوع: هو مثل كشف أبي بكر لما قال لعائشة رضي الله عنهما: إن امرأته حامل بأنثى. وكشف عمر- رضي الله عنه- لما قال: يا سارية الجبل، وأضعاف هذا من كشف أولياء الرحمن .[مدارج السالکین ( 3 / 228)]
اور کشف رحمانی یہ ہے ، جس طرح کہ ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ کہا کہ ان کی بیوی کو بچی حمل ہے ، اور اسی طرح عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا کشف جب کہ انہیوں نے یا ساریـۃ الجبل کہا تھا یعنی اے ساریہ پہاڑ کی طرف دھیان دو ، تو یہ اللہ رحمن کے اولیاء کے کشف میں سے ہے۔
علامہ ابن قیمؒ اس واقعے کو بطور کشف رحمانی پیش کر رہے ہیں۔۔


عن ابنِ عمرَ قال وجَّهَ عمرُ جيشًا ورأَّسَ عليهم رجلًا يُدعى ساريةَ فبينا عمرُ يخطبُ جعل يُنادي يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا ثم قدم رسولُ الجيشِ فسألَه عمرُ فقال يا أميرَ المؤمنين هُزمنا فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتًا يُنادي يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا فأسندنا ظهْرَنا إلى الجبلِ فهزمَهُمُ اللهُ تعالَى قال قيل لعمرَ إنك كنتَ تصيحُ بذلك ـ(الإصابة في تمييز الصحابة (ابن حجر العسقلاني) - الصفحة أو الرقم: 2/3 (الجزء 3 - الصفحة 5،)كشف الخفاء (العجلوني) - الصفحة أو الرقم: 2/515) المصدر: البداية والنهاية (ابن كثير) - الصفحة أو الرقم: 7/135)السلسلة الصحيحة (الألباني) - الصفحة أو الرقم: (3/101) 1110،)خلاصة حكم المحدث: إسناده حسن۔كرامات أولياء الله عز وجل للالكائي (سنة الوفاة:418) » ذكر فضائل الصحابة وغيرهم » سياق مَا روي من كرامات أمير المؤمنين أَبِي حفص عُمَر ... رقم الحديث: 49)
امام احمد بن حنبلؒ نے اس کو فضائل صحابہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے واقعات میں ذکر کیا ہے۔۔ محقق نے اس کی سند کو حسن کہا اور کہا کہ علامہ ھیثمی نے اس کی سند کو صواعق المحرقہ میں حسن کہا اور علامہ ابن تیمیہؒ نے الفرقان میں اس روایت سے استدلال کیا ہے۔۔


ابن تیمیہؒ نےفتاوی ابن تیمیہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساریہ والے واقعے کواور دوسرے کئی واقعات کو بطور کشف تسلیم کیا اور لکھا
وأما المعجزات التي لغير الأنبياء من باب الكشف والعلم فمثل قول عمر في قصة سارية، وأخبار أبي بكر بأن ببطن زوجته أنثى، وأخبار عمر بمن يخرج من ولده فيكون عادلاً. وقصة صاحب موسى في علمه بحال الغلام، والقدرة مثل قصة الذي عنده علم من الكتاب. وقصة أهل الكهف، وقصة مريم، وقصة خالد بن الوليد وسفينة مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي مسلم الخولاني، وأشياء يطول شرحها. فإن تعداد هذا مثل المطر. وإنما الغرض التمثيل بالشيء الذي سمعه أكثر الناس. وأما القدرة التي لم تتعلق بفعله فمثل نصر الله لمن ينصره وإهلاكه لمن يشتمه.
اور جہاں تک معجزات غیر انبیاء کے علم و کشف کے باب میں ہے تو اس کی مثال ساریہ کا عمر والا قصہ ہے — ان قصوں کی تعداد اس قدر ہے جیسے بارش(فتاوی ابن تیمیہ،11/318)
اپنی دوسری کتابوں النبوات، قاعدة عظيمة في الفرق بين عبادات أهل الإسلام والإيمان وعبادات أهل الشرك والنفاق، الفرقان بين أولياء الرحمن وأولياء الشيطان، منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشيعة القدرية میں ابن تیمیہ نے اس کا کئی بار اس قصہ کا ذکر کشف کی دلیل کے طور پر کیا




تو اتنے علماء نے اس واقعہ کو صحیح تسلیم کیا اور بطور کشف و کرامات اس سے دلیل پکڑی۔
بالفرض اگر یہ روایت ضعیف بھی ہے تب بھی بطور کشف و کرامات اس واقعہ سے دلیل لی جا سکتی ہے۔

غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم
محسن اقبال