صفحات

جمعہ، 25 اپریل، 2014

ابو حنیفہؒ کاچالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نمازپڑھنے پہ اعتراض کا جواب

غیر مقلدین امام ابو حنیفہؒ کاچالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نمازپڑھنے کا واقعہ بیان کرکے احناف پہ اعتراض کرتے ہیں کہ احناف نے امام صاحبؒ کے بارے میں غُلو کیا ہے لیکن غیر مقلدین یہاں بھی ہمیشہ کی طرح دھوکہ دیتے ہیں۔

یہ واقعہ بیان کرنے والے صرف احناف نہیں بلکہ اسکو بیان کرنے میں شافعی،حنبلی اور مالکی علماء بھی شامل ہیں۔
ان اکابرین میں سے 8 علماء کے حوالے پیشِ خدمت ہیں جنہوں نے اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔

امام نووی شافعی ؒنے تہذیب الاسماء صفحہ 704 پہ،علامہ دمیریؒ نے حیات الحیوان جلد 1 صفحہ 122 پہ،حافظ ابن حجر عسقلانی شافعیؒ نے تہذیب التہذیب جلد 10 صفحہ450 پہ،علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے تبیض الصحیفہ صفحہ 15 پہ،قاضی حسین بن محمد دیار مالکیؒ نے تاریخ الخمیس جلد 2 صفحہ 366 پہ،عبد الوہاب شعرانی حنبلیؒ نے کتاب المیزان جلد 1 صفحہ 61 پہ،ابن حجر مکی شافعیؒ نے الخیرات الحسان صفحہ 36 پہ امام صاحبؒ کا یہ واقعہ بیان کیا ہےکہ امام ابو حنیفہؒ نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی۔

اس کے علاوہ یہ واقعہ صرف امام ابو حنیفہؒ سے ہی نہیں بلکہ کئی اکابرین سے بھی وقوع ہوا جو کہ مختلف کتابوں میں موجود ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی حنبلیؒ کا کہنا ہے کہ چالیس تابعین سے کے متعلق منقول ہے کہ انہوں نے چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی اور اسکی سند صحیح ہے۔(غنیۃ الطالبین، صفحہ 496 بتحقیق مبشر لاہوری غیر مقلد)


غیر مقلدین سے گزارش ہے کہ لگائیں ان اکابرین علماء پہ فتوی امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں غُلو کرنے کا اور لگائیں ان چالیس اکابرین پہ فتوی امام ابو حنیفہؒ کی طرح چالیس سال عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنے پہ۔

کیا شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے بھی ان چالیس اکابرین کا عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھنے کا واقعہ بیان کر کے غُلو کیا؟ غیر مقلد عالم نے شیخ عبدالقادر جیلانیؒ پہ فتوی کیوں نہیں لگایا؟

کیا یہ سب حنبلی، مالکی اور شافعی علماء اور اکابرین بھی امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں غُلو کر رہے ہیں؟

غیر مقلدو! آو، ہمت کرو اور ان اکابرین پہ وہی فتوی لگاو جو امام ابو حنیفہؒ اور مقلدین احناف پہ لگاتے ہو۔

غلامِ خاتم النبیینﷺ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و اہلبیت عظام رضی اللہ عنہم
محسن اقبال