صفحات

جمعرات، 26 اپریل، 2018

غیر مقلدین کا مولانا اوکاڑویؒ پر قرآن پر بہتان لگانےکے الزام کا جواب


غیر مقلدین کا مولانا اوکاڑویؒ پر قرآن پر بہتان لگانےکے الزام کا جواب

غیر مقلدین نے مولانا اوکاڑویؒ پر اعتراض کیا ہے (کہ مولانا اوکاڑوی نے فتوحات صفدر میں کہا کہ'' قرآن پاک میں یہ ہے کہ ابوجہل کی پارٹی بتوں والی آیتیں نبیوں کے بارے میں پڑھا کرتی تھی ۔قرآن نے انکو بل ھم قوم خصمون کہا'' یہ قرآن میں کہیں نہیں ہے ،اوکاڑویؒ نے قرآن پاک پر صریح جھوٹ بولا ہے۔)

یہ بھی غیر مقلدین کی جہالت ہے کیونکہ اصل میں مماتی مولوی مولانا یونس نعمانی نے مناظرہ میں آیت پیش کی جس کے جواب میں مولانا اوکاڑویؒ نے کہا کہ ''مولوی صاحب کے پاس انبیاء کے بارے میں کوئی واضح آیت نہیں ہے۔مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت بُتوں کے بارے میں ہے۔ قرآن پاک میں یہ ہے کہ ابوجہل کی پارٹی بتوں والی آیتیں نبیوں کے بارے میں پڑھا کرتی تھی ۔قرآن نے انکو بل ھم قوم خصمون کہا۔مولوی یونس صاحب کافروں والا طریقہ اختیار کر چکے ہیں کہ بتوں والی آیتیں نبیوں پر چسپاں کر رہا ہے۔'' (فتوحات صفدر3/407)

مولانا اوکاڑویؒ تو کہہ رہے ہیں کہ جو آیت یونس نعمانی پیش کر رہا ہے مفسرین کے نزدیک وہ آیت بتوں کے بارے میں ہے ۔اور جو حوالہ دیا کہ قرآن میں ہے کہ ابوجہل کی پارٹی بتوں والی آیت نبیوں کے بارے میں پڑھتی تھی تو مولانا اوکاڑویؒ نے تو قران کی آیت کا مفہوم بیان کیا جہاں ابوجہل کی پارٹی سے مراد مشرکین مکہ تھےجو بتوں کی آیات انبیاؑ کے لئے پڑھتے تھے جن کے بارے میں بل ھم قوم خصمون کہا گیا۔ سورۃ الزخرف کی اس آیت کی یہی تفسیر کئی علماء نے بیان کی۔
تفسیر ابن کثیر میں بروایت ابن عباس رضی اللہ موجود ہے کہ ''ابن جریرؒ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ اس قوم سے مراد قریش (یعنی ابوجہل کی پارٹی) ہے کہ جب قریش سے کہا گیاکہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو (یعنی بت) جہنم کا ایندھن ہیں ،تم اس میں داخل ہونے والے ہو۔تو قریش کے لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگے کہ ابن مریم علیہ سلام کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے''(تفسیر ابن کثیر،ترجمہ مولانا خالد سیف)

غیر مقلدین کے شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری صاحب بھی اس آیت کی تشریح میں یہی لکھتے ہیں کہ اس سے مخاطب شرفاء مکہ ہیں''(تفسیر ثنائی،222)
غیر مقلدین کی مستند تفسیر احسن البیان میں بھی اس آیت کی تشریح میں یہی بیان کیا گیا جس کا مفہوم ہے کہ ''مشرکین مکہ سے کہا جاتا تھا کہ تمہارے ساتھ تمہارے معبود بھی جہنم میں جائیں گے تو اس سے مراد پتھر کی مورتیاں ہوتی ہیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے'' (تفسیر احسن البیان،1390)
تو واضح ہوا کہ مولانا اوکاڑویؒ نے قرآن کی آیت کا وہی مفہوم اپنے انداز میں بیان کیا جو مفسرین کرتے آئے ہیں لیکن غیر مقلدین نے بغض و حسد میں اس کو قران پر بہتان کا نام دے کر مولانا اوکاڑویؒ پر اعتراض شروع کر دیا۔۔۔۔

غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ سلم
محسن اقبال