صفحات

پیر، 3 فروری، 2014

کیا ھدایہ احناف کے نزدیک قرآن کی طرح ہے؟



جس غیر مقلد نے یہ بات اڑائی ہے کہ ہدایہ میں لکھا ہے کہ ہدایہ قرآن کی طرح ہے، اس نے غالباً حکیم صادق سیالکوٹی غیر مقلد کی کتاب سبیل الرسول سے یہ بات نقل کی ہے، اس لئے کہ یہ جھوٹ سبیل الرسول والے ہی نے بولا ہے، وہ لکھتا ہے:

جس طرح قرآن کے بعد اصح الکتاب، ) 1)حکیم صادق سیالکوٹی سبیل الرسول کے مصنف نے خدا کا ادنی خوف رکھے بغیر اتنا بڑا جھوٹ گڑھا ہے، ہدایہ کوئی نایاب کتاب نہیں ہے، ہر عربی مدرسہ میں اس کا ایک نہیں کئی نسخہ موجود ملے گا۔ کسی غیر مقلد عالم کا آپ ہاتھ پکڑیئے اور کسی بھی آس پاس کے عربی مدرسہ میں لیجا کر اس کے ہاتھ میں ہدایہ دے دیجئے اور اس سے کہئے کہ دکھلایہ بات ہدایہ میں کہاں لکھی ہے، وہ ہدایہ کے اوراق ساری زندگی الٹتا پلٹتا رہے گا مگر ہدایہ میں اسے یہ بات نظر نہیں آئے گی، غیر مقلدین علماءخود تو جھوٹ بولتے ہی ہیں افسوس یہ کہ وہ اپنے عوام کو بھی جھوٹ کی راہ پر لگاتے ہیں۔

حکیم صادق سیالکوٹی نے اپنی کتاب سبیل الرسول میں مولانا یوسف جے پوری کی کتاب حقیقة الفقہ سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے، حقیقة الفقہ کی باتیں کبھی حوالہ دیکر اور کبھی بلا حوالہ دیئے ہوئے اس کتاب میں نقل کرتے رہتے ہیں، یہ بات بھی انہوں نے غالباً حقیقة الفقہ ہی سے اڑائی ہے ، مگر حقیقیة الفقہ والے نے ہدایہ کا نہیں بلکہ مقدمہ ہدایہ کا حوالہ دیا ہے،ہمارے پاس جو ہدایہ ہے ہم نے اس کا مقدمہ دیکھا ہے ہمیں یہ بات ہدایہ کے مقدمہ میں بھی نظر نہیں آئی، یقینا یوسف جے پوری نے بھی جھوٹ بولا ہے، یا معلوم نہیں اس کے نزدیک ہدایہ کے مقدمہ سے کیا مراد ہے (1)

یہ ہے حکیم صاحب غیر مقلد کی قابلیت کا ادنی نمونہ اصح الکتاب فرما رہے ہیں، اور اس قابلیت کے بل بوتہ پر وہ کتاب و سنت سمجھنے کا بھی حوصلہ رکھتے ہیں۔ صحیح بخاری ہے، اسی طرح احناف میں ہدایہ کا درجہ ہے کہ ہدایہ ہی میں لکھا ہے کہ ان الھدایة کالقرآن کہ ہدایہ مثل قرآن ہے“ ص۸ ۲۲

یہ ہدایہ ہے جس کی شان میں یہ شعر مقدمہ ہدایہ میں منقول ہے۔

انالھدایة کا لقرآن قد نسخت ماصنفو اقبلھا فی الشرع من کتب

ترجمہ: ہدایہ قرآن کی طرح ہے جس نے تمام پہلی کتابوں کو جو شروع میں لکھی گئیں منسوخ کر دیا ہی (حقیقة الفقہ ص ۴ ۵ ۱)

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس جو ہدایہ ہے اس کے مقدمہ میں مجھے یہ شعر کہیں نظر نہیں آیا، اب اگر مولانا یوسف کی یہ بات یا یہ حوالہ صحیح ہے تو ہدایہ کے مقدمہ میں کوئی غیر مقلد عالم یہ شعر دکھلائے، ورنہ اﷲ سے ڈرے اور دین کے نام جھوٹ بول بول کر بے دینی کا کام نہ کرے۔

آپ کا جواب تو پورا ہو گیا مگر مجھے ناظرین کی آنکھیں کھولنے کے لئے غیر مقلدین علماءکی قابلیت کو بھی ظاہرکرنا ہے۔

غالباً مقدمہ ہدایہ سے مراد ہے ہدایہ کے شروع میں ہدایہ کتاب کی تالیف کے صدیوں بعد مولانا عبد الحئی لکھنوی کی وہ تحریر ہے جس میں انہوں نے ہدایہ اور اس کے مصنف کے بارے میں اپنی معلومات جمع کی ہیں اور اس کو ہدایہ کے ساتھ ناشرین نے شائع کیا ہے، یہ شعر مولانا لکھنوی کی اس تحریر میں ہے، اگر ان غیر مقلدین کی نیت صاف ہوتی تو اس کو واضح کرتے کہ مقدمہ ہدایہ سے مراد مولانا لکھنوی کی تحریر ہے۔ بہر حال یوسف جے پوری کی پوری بات سنئے فرماتے ہیں:

حکیم صادق سیالکوٹی نے صرف اتنا نقل کیا ہے۔ان الھدایة کالقرآن اور ترجمہ کیا ہے کہ ہدایہ مثل قرآن کے ہے۔

 

اور مولانا یوسف جے پوری نے پورا شعر نقل کیا ہے اور ترجمہ کیا ہے :

ہدایہ قرآن کی طرح ہے جس نے تمام پہلی کتابوں کو جو شروع میں لکھی گئیں منسوخ کر دیا ہے۔

قطع نظر اس کے کہ یہ شعر کس کا ہے اور کہاں لکھا ہے آیئے ہم دیکھں کہ اس شعر کے ترجمہ میں غیر مقلدین کے یہ مجتہدین علماءکیساغچہ کھا رہے ہیں، نہ تو حکیم صادق سیالکوٹی نے شعر کو سمجھا اور نہ مولانا یوسف جے پوری نے شعر کا مطلب و مفہوم جانا، شعر کا صحیح اور با محاورہ ترجمہ یہ ہے :

بیشک ہدایہ نے قرآن کی طرح پہلے کی تمام فقہی کتابوں کو منسوخ کر دیا ہے۔

شعر کہنے والے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح قرآن نے گزشتہ تمام آسمانی کتابوں کو اپنی فصاحت و بلاغت اور اسرار و حکم اور آخری کتاب ہونے کی وجہ سے منسوخ کر دیا ہے اسی طرح سے ہدایہ اپنے عمدہ اسلوب تحریر، عبارت کی جامعیت و بلاغت و جزالت کی وجہ سے پہلے کی تمام فقہی کتابوں سے فائق ہے، اگر صرف ہدایہ کو پڑھ لیا جائے تو فقہ کی کسی اور کتاب کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

شاعر کا مقصد تو یہ ہے، جس میں کسی طرح کی معنوی قباحت نہیں، یہ اسی طرح کی بات ہے جیسے بخاری کی شرح فتح الباری کے بارے میں کوئی کہے کہ جس طرح قرآن سے بقیہ آسمانی کتابیں منسوخ ہو چکی ہیں کسی اور کتاب کی اب حاجت نہیں اسی طرح فتح الباری نے حدیث کی تمام شروح کو منسوخ کر دیا ہے اس کتاب کے بعد بخاری کی کسی اور شرح کی ضرورت نہیں رہتی، فتح الباری کے بارے میں اس کا اظہار خیال زیادہ سے زیادہ کسی اور کو مبالغہ نظر آئے گا مگر معنوی طور پر یہ بات ایسی نہیں ہے کہ کسی کو اس پر اعتراض کی گنجائش ہو، شاعر نے ہدایہ کو قرآن کی طرح نہیں کہا ہے بلکہ وہ کہتا ہے کہ قرآن نے جس طرح دوسری آسمانی کتابوں کو منسوخ کر دیا اسی طرح ہدایہ نے دوسری فقہی کتابوں کو منسوخ کر دیا ہے یعنی ہدایہ کے بعد اس کی ضرورت باقی نہیں رہتی ہے، اگر کسیکا یہ خیال ہو تو آپ کو یا کسی کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ بات صرف اتنی سی ہے مگر غیر مقلدین مجتہدین شعر کا غلط ترجمہ کر کے بات کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں۔(۱) اہل علم جان رہے ہیں کہ شعر میں الھدایة یہ ان کا اسم ہے اور کالقرآن سے آخر تک سب مل ملا کر ان کی خبر ہے۔ اور پورے شعر کا ترجمہ صحیح وہ ہے جو میں نے کیا ہے ،مگر غیر مقلدین قابل لوگ ان الھدایة کو مبتدا بنا کر کالقرآن کو خبر بنا دیتے ہیں اور یہیں بات کوپوری کر رہے ہیں اور ترجمہ کرتے ہیں کہ ہدایہ قرآن کی طرح ہے ،واہ رے قابلیت اگر جملہ یہیں پر مکمل ہوتا تو پھر ضروری تھا کہ کالقرآن کے بعد الذی یا التی اسم موصول لایا جاتا۔بلا اس کی عبارت درست نہیں ہو سکتی تھی۔

اور کمال تو مولانا یوسف جے پوری کا ہے فی الشرع کا ترجمہ آپ کرتے ہیں شروع میں ایسے پاگلوں کو جے پورسے لا کر آکرہ کے پاگل خانہ میں کیوں نہیں رکھ دیا گیا ۔

مولانا عبدالرحمن مبارکپوری نے شعر کا ترجمہ صحیح کیا ہے، ان کا ترجمہ ملاحظہ ہو: ہدایہ نے قرآن مجید کی طرح ان کتابوں کو منسوخ کر دیا جو اس کے پہلے لوگوں نے تصنیف کی تھیں، المقالہ الحیسنی مولانا نے جاہل یر مقلدین کی طرح، ہدایہ قرآن کی طرح ہے“ ترجمہ نہیں کیا ہے۔

بھلا بتلائیے جس کو عربی کے ایک معمولی شعر کا ترجمہ کرنے کا سیلقہ نہ ہو ۔جو عربی کی معمولی عبارت کا صحیح ترجمہ نہ کر سکتا ہو اور نہ سمجھ سکتا ہو اس کو شوق ہوتا ہے ہدایہ کے خلاف منہ زوری دکھلانے کا ۔انا ﷲ وانا الیہ راجعون ۔

ابھی حقیقہ الفتہ کتاب جب میں نے دیکھی تو اس میں عربی کی اس عبارت پر نظر پڑ گئی والا ولی ان یکون الشرع اسما للدین فلا یحتاج الی التاویل (۵ ۲ ۱ص)اور اس کا ترجمہ یہ جے پوری قابل صاحب کرتے ہیں۔ شرع نام ہے دین کا جو تاویل کا محتاج نہیں ۔اہل علم داد دین اس ترجمہ کی اور جامعہ سلفہ والے مٹھائی تقسیم کریں قابلیت کے اس شاہکار نمونہ پر ۔ چونکہ غیر مقلدین کو حقیقہ الفقہ پر بڑا ناز ہے اور اس کا موئف جو جاہل محقق تھا اس کو یہ لوگ بڑا محقق سمجھتے ہیں، اس لئے ذرا اس کی قابلیت کا ایک نمونہ اور اہل علم ملا حظہ فرمائیں مگر شرط یہ ہے کہ قہقہہ نہ لگائیں ،تدریب الراوی سے امام شافعی کا یہ قول نقل کیا ہے۔ وکان یقول وایاکم والا خذبالحدیث الذی اتا کم من بلا داھل الرای الابعد التفتیش (۱)

یہ ہے الابعد التفتیش کا شاندار شاہکار ترجمہ ،متبنی ہوتا تو یوسف جے پوری کی قابلیت پر پورا ایک قصیدہ کہہ دیتا ۔

اس کئ علاوہ خود غیر مقلدین کے عالم محمد داؤد ارشد صاحب نے حکیم صادق سیالکوٹی کی کتاب سبیل الرسول کی تخریج کرتے ہوئے امام ابو حنیفہؒ کو ھدایہ کے مسائل سے بری الذمہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ امام صاحبؒ سے صدیوں بعد لکھی گئی۔( سبیل الرسول پر ایک نظر، صفحہ 194)



مطلب یہ کہ ان کے نزدیک اگر ھدایہ کا کوئی مسئلہ قران اور حدیث کے خلاف بھی ہو تو بھی امام ابو حنیفہ رح پہ اعتراض کرنا جائز نہیں وہ ان تمام مسائل سے بری ہیں

میں کیا بتا ﺅں جب میں غیر مقلدین مجتہدین کی قابلیتوں کے نمونے دیکھتا ہوں تو حیران ہو کر سوچتا ہو کہ جہل مرکب کے یہ گرفتار یے آخر کب اپنی اوقات پہنچانیں گے۔


جس بات پر غیر مقلدین احناف پہ اعتراض کر رہے ہیں بلکل اسی طرح کی بات تہذہب النووی میں سنن ابو داؤد کی نسبت لکھی گئی ہے کہ ''جب کتاب ابو داؤد تصنیف ہوئی تو اہلحدیثوں کے واسطے وہ مثل قران تھی''
اس اعتراض کا جواب غیر مقلدین کے عالم ابوالقاسم سیف بنارسی نے اپنی کتاب دفاع صحیح بخاری صفحہ 757 پر دیا ہے اور اس کا دفاع بھی کیا ہے۔۔۔ کیا غیر مقلدین اپنے عالم پر فتوی لگائیں گے؟؟


-----------------------------------------------------

(۱) عوام ناظرین کی خاطر اس کا صحیح ترجمہ نقل کیا جا رہا ہے۔یعنی امام شافعی فرماتے تھے کہ اہل الرائے کے شہروں سے جو حدیث آئے اس کو چھان بین کر کے ہی لینا ۔اور اس کا ترجمہ یہ کیا ہے ۔کوئی حدیث بھی عراق سے آوے اور اس کی اصل حجاز سے نہ ہو تو نہ قبول کی جاوے اگر چہ صحیح ہو نہیں چاہتا ہوں مگر خیر خواہی متنبی تیری ۴ ۳ ۱ص

------------------------------------------------------

ایسے لوگ امت کو گمراہی کی کس خندق و کھائی میں ڈالیں گے ،آقائے دو جہاں کی پیشنگوئی آج ہماری آنکھوں کے سامنے ہے جاہل دین کے ٹھیکہ دار بن گئے ہیںانھوں نے حرام کی تمیز اٹھا دی ہے ۔ضلوافاضلو اکا پورا نقشہ آج نگاہوں کے سامنے ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ ہدایہ میں یا ہدایہ کے مقدمہ میں مذکورہ بالا شعر یا یہ بات کہ ہدایہ قرآن کی طرح ہے کہیں نہیں ہے اگر کسی کتاب میںیہ شعر مذکور بھی ہے تو اس کا وہ مطلب نہیں ہے جو غیر مقلدین بیان کرتے ہیں اس شعر میں کسی طرح کی کوئی معنوی قباہت نہیں ہے جیسا کہ عرض کیا گیا