صفحات

جمعہ، 7 فروری، 2014

مسئلہ قرآت خلف الامام ،غیر مقلدین اور سعودیہ کا مسلک

مسئلہ قرآت خلف امام ایک اختلافی مسئلہ ہے لیکن غیر مقلدین اس مسئلہ میں بھی لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ جو نماز میں امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔

سب سے پہلے غیر مقلدین کا یہ کہنا ہی غلط ہے کہ " جو امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی" کیونکہ امام بخاری رح سے لے کر آج تک کسی نے یہ دعوی نہیں کیا کہ جو امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا اس کی نماز باطل ہے۔
یہ بات میری نہیں ہے بلکہ موجودہ دور کے غیر مقلدین کے مشہور علماء اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔


غیر مقلدین کے مشہور عالم ارشاد الحق اثری نے اپنی کتاب توضیح الکلام صفحہ 71پر، عطاء اللہ حنیف بھوجیانی نے خیرالکلام کے مقدمہ میں صفحہ 14 پر اور غیر مقلدین کے شیخ الکل حافظ محمد گوندلوی نے خیر الکلام کے صفحہ 33 پہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امام بخاری سے لے کر محقق علماء اہلحدیث نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ جو امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھتا اس کی نماز باطل ہے۔




لیکن عوام کے سامنے فقہ حنفی کے بغض اور حسد میں یہ جاہل اپنے علماء کو جھٹلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ احناف کی نماز نہیں کیونکہ حنفی امام کے پیچھے فاتحہ نہیں پڑھتے۔

اس کے علاوہ غیر مقلدین لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے سعودیہ شاہ فہد کمپلیکس کی تفسیر پیش کرتے ہیں جو حاجیوں کو مفت فراہم کی جاتی ہے۔
اس تفسیر کا ترجمہ غیر مقلدین جونا گڑھی نے کیا ہے اور اس کے حواشی صلاح الدین یوسف کے ہیں۔
اس تفسیر میں صفحہ 14 پہ لکھا ہے کہ "علامہ ابن تیمیہ رح کے نزدیک سلف کی اکثریت کا قول ہے کہ مقتدی اگر امام کی قرآت سن رہا ہو تو نہ پڑھے اور اگر نہ سن رہا ہو تو پڑھے۔"

لیکن غیر مقلدین کا دعوی ہے کہ کسی بھی نماز میں بھلے وہ امام ہو، منفرد ہو یا مقتدی ہو اور باجماعت نماز میں ہو جو بھی سوری فاتحہ نہیں پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی۔


لیکن یہی تفسیر احسن البیان غیر مقلدین کے مکتبہ دار السلام سے شائع ہوئی تواس میں علامہ ابن تیمیہ رح کا یہ قول نکال دیا گیا۔


سعودیہ والے چونکہ حنبلی ہیں اس لئے انہوں نے اس ترجمہ میں حنابلہ کا موقف پیش کیا ہے لیکن اگر آپ یہی مولانا جونا گڑھی اور صلاح الدین یوسف کا ترجمہ دار السلام کا یا شاہ فہد کے علاوہ کسی اور متکبہ کا لیں تو اس میں علامہ ابن تیمیہ رح کا یہ قول موجود نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں عالم اہلحدیث ہیں اور ابن تیمیہ رح کے اس قول کے منکر ہیں اس لئے وہاں یہ ترجمہ نہیں ملے گا اور سعودیہ والے چونکہ حنبلی ہیں اس لئے شاہ فہد کے ترجمہ میں ان کا موقف واضح موجود ہے کہ مقتدی اگر امام کی قرآت سن رہا ہو تو نہ پڑھے اور اگر نہ سن رہا ہو تو پڑھے۔

اب غیر مقلدین سے گزارش ہے کہ ذرا لگائیں فتوی سعودیہ کے علماء اور علامہ ابن تیمیہ رح کی نمازوں پہ کہ ان کی جھری نمازیں امام کے پیچھے نہیں ہوئیں۔

 

شکریہ

غلامِ خاتم النبیین ﷺ 

محسن اقبال