صفحات

منگل، 4 فروری، 2014

مدت رضاعت ،امام ابو حنیفہ رح اور غیر مقلدین

غیر مقلدین امام ابو حنیفہ رح پہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان کو قران نہیں آتا تھا اور مدت رضاعت میں ان کا قول قرآن کے خلاف ہے۔

امام اعظم رحمتہ اﷲ علیہ کی دو روایتیں ہیں۔
ايک ڈھائی سال کی اور ايک دو سال کی۔


ديکھئے زاد المعاد لابن القیم رحمتہ اﷲ علیہ ج2ص330 بحوالہ فتح المبین ص205 اور فتوی دو سال والی روایت پر ہے ۔ ديکھئے فتح القدیر و شامی وغیرہما۔
فقہ حنفی میں بھی مدت رضاعت 2 سال ہے جو کہ امام ابو یوسف رح اور امام محمد رح کا قول ہے۔
امام ابو حنیفہ رح کا بھی ایک قول 2 سال کا ہے جو کہ ان کا آخری قول ہے اور اس بات کہ تصدیق غیر مقلدین کے علامہ ابن قیم بھی کرتے ہیں۔
علامہ ابن قیم رح عرض کرتے ہیں کہ '' امام ابو حنیفہ رھ اور امام زفر رح کا قول اڑھائی سال کا ہے اور امام ابو حنیفہ رھ کا آخری قول امام ابو یوسف رح اور امام محمد رح کے مطابق ہے (یعنی کہ 2 سال)۔
(زاد المعاد جلد 2 صفحہ 330)


امام ابو حنیفہ رح کے مسئلے کی وضاحت ابن قیم نے بھی کر دی تو غیر مقلدین سے گزارش ہے کہ وہ ابن قیم رح پہ کیا فتوی لگائیں گے امام ابو حنیفہ رح کے حوالے کی وضاحت پہ؟؟؟؟


اس کے ساتھ ساتھ ابن قیم کہتے ہیں کہ امام زفر کے نزدیک بھی مدت رضاعت اڑھائی سال ہے۔۔ تو امام زفر کے بارے میں بھی کچھ عرض کریں گے یا صرف ابو حنیفہ کی ہی رٹ لگائیں گے؟؟؟

 
اگر امام ابو حنیفہ رح سے دو سال کا قول ثابت نہیں جیسا کہ غیر مقلدین کہتے ہیں تو وہ تسلیم کر لیں کہ ابن قیم نے جھوٹ بولا ہے جو کہا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا آخری قول امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے مطابق ہے۔

اعتراض تو آپ کا امام ابو حنیفہ رھ پہ ہے لیکن سعودیہ کی فتوى كميٹى كے علماء كرام كا كہنا ہے کہ


" تو يہ معلوم ہوا كہ رضاعت ميں ہى بچے كى مصلحت و حق ہے، اور اگر بچے كو دودھ چھڑانے ميں ضرر و نقصان ہو تو دو برس سے قبل اسے دودھ چھڑانا جائز نہيں ہوگا، چنانچہ اگر مصلحت ہو اور بچے كو ضرر سے دور ركھنا مقصود ہو تو ماں كے ليے دو برس كے بعد بھى بچے كو دودھ پلانا جائز ہے.
ابن قيم رحمہ اللہ اپنى كتاب " تحفۃ المودود في احكام المولود " ميں كہتے ہيں:
" ماں كے ليے بچے كو اڑھائى سال سے بھى زيادہ دودھ پلانا جائز ہے " انتہى
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 21 / 60 ).


اور یہ فتوی علامہ ابن باز، شیخ عبدالعزیز الشیخ اور شیخ صالح الفوزان کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ علامہ ابن قیم کے نزدیک اڑھائی سال سے بھی ذیادہ دودھ پلانا جائز ہے۔
اب غیر مقلدین ذرا بتائیں کہ علامہ ابن قیم بھی اڑھائی سال کہہ رہے ہیں دودھ پلانے کے لئے تو ان پہ کیا فتوی لگے گا؟؟؟ -

آگے چلو تم تو بچے کو دودھ پلانے پہ امام ابو حنیفہ رح پہ اعتراض کر رہے ہو ذرا دیکھو علامہ شوکانی اور نواب صدیق حسن خان صاحب کیا کہتے ہیں۔


نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں کہ
” ویجوز ارضاع الکبیر ولوکان ذالحیۃ لتجویز النظر“
ترجمہ: بڑے کو دودھ پلانا بھی جائز ہے اگر وہ ڈاڑھی والا ہو، تاکہ اس دودھ پانے والی عورت کی طرف ديکھنا جائزہو جائے۔
صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ علامہ ابن قیم بھی اسی طرف مائل تھے۔
(الدر البہیبۃ ص158مع الروضۃ الندیۃ)


علامہ شوکانی نے ایک کتاب فقہ پہ لکھی جس کا نام ''الدر البھیہ'' ہے۔
اس کا اردو ترجمہ ''فقہ الحدیث'' کے نام سے عمران ایوب لاہوری نے کیا ہے اور تحقیق علامہ البانی کی ہے۔
تصدیق موجودہ دور کے غیر مقلد اکابر عالم مبشر احمد ربانی اور عبدالجبار شاکرکی ہے۔
غیر مقلدین تو بچوں کو دودھ پلانے پہ فتوے لگا رہے ہیں لیکن ان کے علامہ شوکانی تو بڑی عمر کے آدمی کو بھی دودھ پلانے کو جائز کہتے ہیں بھلے اس کی داڑھی ہو اور اور یہ اہلحدیث علماء اس کی تصدیق کر رہے ہیں۔
( فقہ اہلحدیث ، صفحہ 236)


تو ان غیر مقلدین سے گزارش ہے کہ جو فتوی وہ احناف اور امام ابو حنیفہ رح پہ لگاتے ہیں وہی اپنے ان اکابر علماء پہ بھی لگا دیں۔

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن