صفحات

جمعہ، 2 جنوری، 2026

غیر مقلد عالم عبداللہ غزنوی کا تصوف اور حال،جو شخص اس کو دیکھتا وہ زکر کرنا شروع کر دیتا، عبداللہ غزنوی کو اللہ سے الہامات ہوتے تھے۔

 

عبداللہ غزنویؒ غیر مقلدین کے مشہور عالم تھے جو کہ صوفی بھی تھے۔ ان کی سوانح عمری ان کے بیٹے عبدالجبار غزنویؒ نے لکھی۔اس میں کئی بار ان الہامات اور کرامات و واقعات کو ذکر کیا جو عبداللہ غزنویؒ کے ساتھ ہوئے۔
عبداللہ غزنوی کہتے ہیں کہ ان کو خود بخود جذبہ الہیٰ پہنچ جاتا تھا۔پھر ان کو اپنے نفس سے بھی کدورت ہوتی تھی۔ذکر کی حالت یہ تھی کہ جو ان کو دیکھتا وہ ذکر کرنا شروع کر دیتا۔حتی کہ چھت کی لکٹریوں سے بھی ذکر سنا جاتا اور جب آگ لگائی جاتی تو جب نفی و اثبات کے وقت سر گھماتے تو آگ بھی ان کے سر کے ساتھ گھومتی،ان کو اللہ سے الہام ہوا کہ ''صلو علیہ وسلمو تسلیما''(سوانح عبداللہ غزنوی،25)

کیا کوئی غیر مقلد بتائے گا کہ ان کے غزنوی صاحب کو جذبہ الہیٰ کیسے پہنچا؟؟ ان کو الہام کیسے صادر ہوا؟ کیا کسی غیر نبی کوالہام ہو سکتا ہے یا الہام کا دعوی کرنے والا جھوٹا ہوتا ہے؟؟کیا کسی کے ذکر کرنے پر لکڑیوں اور آگ کا جھومنا قران وحدیث سے ثابت ہے؟؟؟ کیا یہی وہ تصوف نہیں ہے جس پر موجودہ غیر مقلدین کفرو شرک کے فتوے لگاتے ہیں؟؟ اگر غزنوی ان کے لئے حجت نہیں تو ان سب الہامات اور واقعات کے بعد عبداللہ غزنوی اور ان کرامات کو لکھنے والے مشرک ہوئے یا نہیں؟؟ کہاں گئے کفر و شرک کے فتوے لگانے والے غیر مقلد؟؟؟؟

غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں