غیر مقلد عالم عبداللہ غزنویؒ
کی سوانح میں لکھا ہے کہ ''اللہ نے محض اپنے فضل عمیم سے اس حقیر کی تربیت کی ہے۔۔۔احسان
کا مرتبہ مجھ کو عطا فرمایا۔۔۔آپ کے لباس سے شاگردوں کو فائدہ ہوتا ۔ایک طالب علم آپ
کی پوستین ہٹانے سے ہی وجد میں آگیا،اور بہت سے لوگ صاحب حالات عجیبہ کے ہو گئے۔۔(سوانح
عمری،صفحہ 4)
عبداللہ غزنویؒ غیر مقلدین کے مشہور عالم ہیں اور ان کی سوانح عمری ان
کے بیٹے عبدالجبار غزنوی نے لکھی ہے۔تصوف کے منکر غیر مقلدین سے سوال ہے کہ اللہ نے
عبداللہ غزنوی کی تربیت کیسے کی؟ ان کو احسان کا مرتبہ کیسے عطا ہوا؟؟ ان کے لباس سے
طالب علم کیسے فائدہ اٹھاتے؟؟ ان کا شاگر د ان کی پوستین ہٹانے سے وجد میں کیسے آ گیا؟؟
کیا یہ وجد، تبرک وغیرہ قران و حدیث سے ثابت
ہے؟؟ ایسے واقعات نقل کرنے اور بیان کرنےوالے مشرک یا گمراہ ہیں یا نہیں؟؟ایسے واقعات
کتاب میں کیوں نقل کئے گئے؟؟ تصوف پر گمراہی کے فتوے لگانے والے غیر مقلد کیا اپنے
ان اکابرین کو گمراہ تسلیم کریں گے؟؟
غلامِ خاتم النبیین ﷺ، محسن اقبال

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں