غیر مقلد عالم عبداللہ غزنوی کی کرامات۔دریا کا منٹوں
میں طے کرنا، پرندوں کا انسانی زبان میں بات کرنا،غیب سے حلوہ پیش ہونا۔
غیر مقلد عالم فضل الرحمٰن ہزاروی مشہور غیر مقلد عالم عبداللہ غزنوی ؒکی کرامات بیان
کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔''جنگل کے درندے ،چرند پرندنے جو الفاظ آپ کی زبان سے سنتے انہیں
انسانوں کی طرح ادا کرنا شروع کر دیا،اسی طرح ایک دریا آیا تو غزنویؒ نے اپنے بیٹے
سے کہا کہ آنکھیں بدن کر لو،آپ نے اللہ سے دعا کی اور آنکھیں کھولی تو سب دریا کے پار
تھے۔سب کو بھوک لگی تھی تو ایک سفید پوش آیا ، روٹیاں اور تازہ حلوہ دے کر غائب ہو
گیا۔ایک عورت کے پیٹ پر انگلی رکھ کر دم کیا تو عورت کا پیٹ ٹھیک ہو گیا۔''(خطبات رحمٰن،174/175)
کرامات کے واقعات پر فتوے لگانے والے غیر مقلد بتائیں گے کہ پرندے کیسے انسانی زبان میں بات کرنے لگے؟؟ تمہارے غزنویؒ نے صرف آنکھیں بند کر کے چند سیکنڈ میں دریا کیسے پار کر لیا؟؟ کیس کسی صحابی نے ایسے دریا پار کیا؟؟ غیب سے ایک آدمی آیا اور کھانا دے کر غائب ہو گیا؟ کیا یہ قران و حدیث سے ثابت ہے؟؟ ایسی کرامات صادر کرنے اور نقل کرنے والے مشرک اور بدعتی ہیں یا نہیں؟؟اگر غزنویؒ اور کتاب کے مصنف تمہارے لئے حجت نہیں تو ان کے شرک و گمراہی کا اعتراف کیوں نہیں کرتے کیونکہ تم لوگوں کے نزدیک ایسی کرامات نقل کرنا اور سیکنٹوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنج جانا شرک و گمراہی ہے؟؟ کہاں گئے کرامات پر فتوے لگانے والے غیر مقلد؟
غلامِ خاتم النبیین ﷺ،محسن اقبال

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں