غیر مقلدین کی عادت ہے کہ وہ دیوبندیوں کی کتاب سےکرامات و کشف کا ایک واقعہ نقل کرتے ہیں اور اس کو لوگوں کے سامنے عقیدہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور اعتراض یہ ہوتا ہے کہ دیوبندیوں نے کتاب میں لکھ دیا تو سمجھو یہ دیوبندیوں کا عقیدہ ہو گیااور یہ بزرگ بھی دیوبندیوں کا ہو گیا ۔غیر مقلدین کے اسی اصول کے تحت غیر مقلدین کے مشہور عالم نواب صدیق حسن خان کی کتاب سے حوالہ نقل ہے ،
نواب صدیق حسن خان اپنی علم الھدیٰ کتاب میں لکھتے ہیں کہ''شیخ حسن دھلوی بچپن سے مجذوب تھے،اکثر اوقات برہنہ رہتے اور عضو مخصوص جو مردوں کا ہوتا ہے اس میں انتشار نہیں ہوتا تھا۔ایسا لگتا تھا جیسے مٹی کا غلہ دیوار پر چپکا ہے''(تقصار،صفحہ 182)نواب کے مطابق اس کتاب تقصار میں انہوں نے ضعیف اقوال کو چھوڑ دیا اور الصح الصحیح اعمال کو نقل کیا ہے۔(خود نوشت سوانح،133)
توغیر مقلدین کے اپنے اصول اور نواب کے اس صحیح حوالہ کے مطابق غیر مقلدین کا پیر ننگا رہتا تھا جس کے عضو خاص میں انتشار نہیں ہوتا تھا۔۔غیر مقلدین کے اصول کے مطابق کتاب میں لکھا گیا واقعہ عقیدہ ہوتا ہے اور ایسے واقعات لکھنے والا مشرک و گمراہ ہوتا ہے،لیکن آج تک غیر مقلدین کو ہمت نہیں ہوئی کہ اپنے علماء پر ایسے فحش واقعات لکھنے پر شرک کے فتوے لگا سکیں۔ فضائل اعمال کے واقعات پر فتوے لگانے والے غیر مقلدو!! نواب صدیق اگر تمہارے لئے حجت نہیں تو اس کے ایسے فحش واقعات نقل کرنے پر شرک کے فتوی کیوں نہیں لگاتے۔؟؟
غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں