صفحات

جمعہ، 2 جنوری، 2026

غیر مقلدین کے بزرگ بارہ سال تک کھاتے پیتے نہیں تھے اور جب تک مکہ معظمہ کو نہ دیکھتے تکبیر تحریمہ نہ کہتے۔نواب صدیق حسن خان

 

غیر مقلدین کی عادت ہے کہ وہ دیوبندیوں کی کتاب سےکرامات و کشف کا  ایک واقعہ نقل کرتے ہیں اور اس کو لوگوں کے سامنے عقیدہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور اعتراض یہ ہوتا ہے کہ دیوبندیوں نے کتاب میں لکھ دیا تو سمجھو یہ دیوبندیوں کا عقیدہ ہو گیااور یہ بزرگ بھی دیوبندیوں کا ہو گیا ۔غیر مقلدین کے اسی اصول کے تحت غیر مقلدین کے مشہور عالم نواب صدیق حسن خان کی کتاب سے حوالہ نقل ہے ،   نواب صدیق حسن خان اپنی علم الھدیٰ  کتاب  میں لکھتے ہیں کہ ''شیخ سراج سوختہ حافظ قرآن تھے، جب تک مکہ معظمہ کو نہ دیکھ لیتے تکبیر تحریمہ نہ کہتے،آپ سے کثرت خرق عادت واقعات ظہور ہوئے۔آپ مقام صمدیت پر فائز تھے اور بارہ سال تک نہ کھاتے تھے اور نہ پیتے تھے، جو لباس ایک بار پہن لیتے اس کو دھونے اور تبدیل کرنے کی حاجت نہ رہتی۔''(تقصار، صفحہ 158)
 نواب کے مطابق اس کتاب میں انہوں نے ضعیف اقوال کو چھوڑ دیا اور الصح الصحیح اعمال کو نقل کیا ہے۔(خود نوشت سوانح،133) تو نواب کے اس صحیح حوالہ سے معلوم ہوا کہ غیر مقلدین کے بزرگ بارہ سال تک کھاتے پیتے نہیں تھے اور لباس بھی تبدیل نہیں کرتے تھے۔ غیر مقلد بزرگ مکہ معظمہ کو دیکھے بغیر تکبیر تحریمہ تک نہیں کہتے تھے۔ غیر مقلد کے بزرگ مکہ معظمہ کو ہر تکبیر تحریمہ کے وقت کیسے دیکھتے تھے؟؟غیر مقلدین اپنےبزرگ کے ان باتوں کو قران و حدیث سے ثابت کریں گے یا پھر اپنے اصول کے تحت تسلیم کریں گے کہ اپنی کتاب میں ایسے واقعات نقل کرنے والے نواب صدیق حسن خان اور ان کے ماننے والے مشرک و گمراہ ہیں؟؟

غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں