غیر مقلدین کی عادت ہے کہ وہ دیوبندیوں کی کتاب سےکرامات و کشف کا ایک واقعہ نقل کرتے ہیں اور اس کو لوگوں کے سامنے عقیدہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور اعتراض یہ ہوتا ہے کہ دیوبندیوں نے کتاب میں لکھ دیا تو سمجھو یہ دیوبندیوں کا عقیدہ ہو گیااور یہ بزرگ بھی دیوبندیوں کا ہو گیا ۔غیر مقلدین کے اسی اصول کے تحت غیر مقلدین کے مشہور عالم نواب صدیق حسن خان کی کتاب سے حوالہ نقل ہے ،
نواب صدیق
حسن خان اپنی علم الھدیٰ کتاب میں لکھتے ہیں کہ''قاضی محمود صاحب سکر وذوق و عشق
و محبت و حالت و حلاوت والے تھے۔ جب ان کو دفن کرنے لگے تو ان کے والد نے ان کے منہ
سے کپڑا ہٹا کر دیدار کیا تو یہ آنکھیں کھول کر مسکرانے لگے۔ ان کے والد نے کہا کہ
بابا محمود یہ بچوں جیسی ادا کیا؟۔ تو انہوں نے آنکھیں بند کر لیں''(تقصار،صفحہ
157/158)نواب کے مطابق اس کتاب میں انہوں نے ضعیف اقوال کو چھوڑ دیا اور الصح الصحیح
اعمال کو نقل کیا ہے۔(خود نوشت سوانح،133)
تو نواب کے اس صحیح حوالہ سے معلوم ہوا کہ غیر مقلد بزرگ مرنے کے بعدآنکھیں کھول کر مسکرا بھی سکتے ہیں اور دوسرے کی بات سن کر آنکھیں بند بھی کر سکتے ہیں۔غیر مقلدین اپنےبزرگ کے ان باتوں کو قران و حدیث سے ثابت کریں گے یا پھر اپنے اصول کے تحت تسلیم کریں گے کہ اپنی کتاب میں ایسے واقعات نقل کرنے والے نواب صدیق حسن خان اور ان کے ماننے والے مشرک و گمراہ ہیں؟؟
غلامِ خاتم
النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں