غیر مقلدین دوسروں کے کشف و کرامات پر تو فتوے
لگاتے ہیں لیکن اپنے علماء کی کتابیں پڑھنا بھول جاتے ہیں۔غیر مقلدین کے عالم قاضی
غلام حسین کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کے علاقہ میں تشیع کا بہت زور تھا تو ان کو الہام
ہوا کہ ''تم اس علاقہ کے عمر ہو'' تو آپ نے تشیع کا بہت رد کیا۔(تذکرہ علمائے خانپور،18)
سوال یہ ہے کہ ان کے عالم کو الہام کیسے ہوا؟؟؟ مصنف نے اس کو نقل کیوں کیا؟کیا غیر
مقلدین کے نزدیک غیر انبیاء کو الہام ہو سکتا ہے؟؟احناف کے واقعات پر گمراہی و شرک
کے فتوے لگانے والے غیر مقلد کیا اب اس مصنف پرگمراہی و شرک کے فتوے لگائیں گے؟؟؟؟
غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن
اقبال

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں