غیر مقلدین کی عادت ہے کہ وہ دیوبندیوں کی کتاب سےکرامات و کشف کا ایک واقعہ نقل کرتے ہیں اور اس کو لوگوں کے سامنے عقیدہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور اعتراض یہ ہوتا ہے کہ دیوبندیوں نے کتاب میں لکھ دیا تو سمجھو یہ دیوبندیوں کا عقیدہ ہو گیااور یہ بزرگ بھی دیوبندیوں کا ہو گیا ۔غیر مقلدین کے اسی اصول کے تحت غیر مقلدین کے مشہور عالم نواب صدیق حسن خان کی کتاب سے حوالہ نقل ہے ،
نواب صدیق حسن خان اپنی علم الھدیٰ کتاب میں لکھتے ہیں کہ''میر سید ابراہیم کی خدمت میں شیخ رکن الدین حاضر ہوئے اور کہا کہ آج خواجہ قطب الدین کا عرس ہے تو شرکت کریں۔ شیخ نے کہا کہ تم جاؤ اور متوجہ ہو ، غیر مقلدین کے بزرگ کہتے ہیں کہ میں گیا اور متوجہ ہوا ۔محفل سماع گرم تھی اور قوال و صوفی جوش و خروش میں تھے، خواجہ قطب الدین نے مجھے(رکن الدین) کو فرمایا کہ ان بدبختوں نے میرا دماغ کھا لیا اور ہمارے وقت کو خراب کر رکھا ہے۔''(تقصار،صفحہ 176)نواب کے
مطابق اس کتاب میں انہوں نے ضعیف اقوال
کو چھوڑ دیا اور الصح الصحیح اعمال کو نقل کیا ہے۔(خود نوشت سوانح،133)
تو نواب کے اس
صحیح حوالہ سے معلوم ہوا کہ غیر مقلد بزرگ مراقبہ کر کے قبروں کی طرف متوجہ بھی ہو
سکتے ہیں اور قبر والے سے ہمکلام بھی ہو سکتے ہیں۔ غیر مقلدین اپنےبزرگ کے ان باتوں
کو قران و حدیث سے ثابت کریں گے یا پھر اپنے اصول کے تحت تسلیم کریں گے کہ اپنی کتاب
میں ایسے واقعات نقل کرنے والے نواب صدیق حسن خان اور ان کے ماننے والے مشرک و گمراہ
ہیں؟؟
غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں