صفحات

جمعہ، 2 جنوری، 2026

غیر مقلدین کے مست رہنے والے بزرگ کی کرامت نواب صدیق حسن خان کی علم الھدیٰ کتاب تقصار سے،آنسوؤں سے ہاتھ کا جلنا

 

غیر مقلدین کی عادت ہے کہ وہ دیوبندیوں کی کتاب سےکرامات و کشف کا  ایک واقعہ نقل کرتے ہیں اور اس کو لوگوں کے سامنے عقیدہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور اعتراض یہ ہوتا ہے کہ دیوبندیوں نے کتاب میں لکھ دیا تو سمجھو یہ دیوبندیوں کا عقیدہ ہو گیااور یہ بزرگ بھی دیوبندیوں کا ہو گیا ۔غیر مقلدین کے اسی اصول کے تحت غیر مقلدین کے مشہور عالم نواب صدیق حسن خان کی کتاب سے حوالہ نقل ہے ،

نواب صدیق حسن خان اپنی علم الھدیٰ  کتاب  میں لکھتے ہیں کہ'' مسعود بک اکثر مست رہا کرتے ،سلسلہ چشتیہ میں کسی نے اتنی مستی کا اظہار نہیں کیا۔ ان کے آنسو بہت گرم ہوتے تھے کہ کسی کے ہاتھ پر گرتے تو ہاتھ جلا دیتے''(تقصار،160)

نواب کے مطابق اس کتاب میں انہوں نے ضعیف اقوال کو چھوڑ دیا اور الصح الصحیح اعمال کو نقل کیا ہے۔(خود نوشت سوانح،133)نواب کے مطابق یہ کتاب اور اس میں نقل کئے جانے والے واقعات صحیح ہیں۔

فضائل اعمال کے  واقعات پرشرک کے فتوے لگانے والے غیر مقلدین سے سوال ہے کہ ان کے یہ بزرگ مست کیسے رہتے تھے؟ اور ان کے آنسو اتنے گرم کیسے ہو گئے کہ لوگوں کے ہاتھ جلنا شروع ہو گئے؟؟ کیا ایسے عجیب و غریب واقعات کتابوں میں نقل کرنا ٹھیک ہے؟؟ نواب کے ایسے واقعات نقل کرنے پر نواب صدیق حسن مشرک و گمراہ ہوا یا نہیں؟

غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں