صفحات

جمعہ، 2 جنوری، 2026

نماز میں ہاتھ باندھنا اور امام احمد بن حنبل رح کا موقف

کچھ دن پہلے خود کو اہلحدیث کہلانے والے ایک انگوٹھا چھاپ نے کچھ سکین لگائے کسی حنفی دوست کی پوسٹ کے رد میں کہ امام احمد بن حنبل رح کا موقف نماز میں ہاتھ باندھنے کے متعلق کراہت کا نہیں تھا بلکہ سینہ پر ہاتھ باندھنے کا تھا۔۔۔

امام احمد بن حنبل رح کا موقف ان کے نزدیک اور فقہائے حنابلہ کے نزدیک تحت السرہ کا تھا یا فوق السرہ یعنی ناف کے اوپر ہاتھ باندھنے کا تھا اور ان کے نزدیک اسکی دلیل امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تحت السرہ کی روایت ہے جو کہ اکثر حنابلہ فقہا کی کتب میں موجود ہے اور امام احمد بن حنبل رح کے نزدیک سینہ پر ہاتھ باندھنا تکفیر یعنی کراہت ہے اور ان کا یہ موقف بھی واضح ہے۔۔

 


انگوٹھا چھاپ محقق نے ابن قیم رح کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ ان کے نزدیک امام احمد بن حنبل رح کا التکفیر وضع الیدین علی الصدر کا قول مجہول ہے جبکہ اصل میں امام احمد بن حنبل رح کے نزدیک تکفیر سے مراد وضع الیدین علی الصدر یعنی سینہ پر ہاتھ باندھنا ہے ( واختلف في موضع الوضع فعنه فوق السرة وعنه تحتها وعنه أبو طالب سألت أحمد أين يضع يده إذا كان يصلي؟ قال: "على السرة أو أسفل وكل ذلك واسع عنده إن وضع فوق السرة أو عليها أو تحتها" علي رضي الله عنه: "من السنة في الصلاة وضع الأكف على الأكف تحت السرة" عمرو بن مالك عن أبي الجوزاء عن ابن عباس مثل تفسير علي إلا أنه غير صحيح، والصحيح حديث علي قال في رواية المزني: "أسفل السرة بقليل ويكره أن يجعلهما على الصدر " وذلك لما روى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهي عن التكفير وهو وضع اليد على الصدر.) بدائع الفوائد (3/982): (قال -يعني: الإمام أحمد- في رواية المزني: أسفل السرة بقليل، ويكره أن يجعلهما على الصدر؛ وذلك لما روي عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه نهى عن التكفير). قال الشيخ علي العمران في حاشيته: (لم أره مسندًا، وذكره ابن أبي يعلى في الطبقات (1/16) عن عبدالله بن أحمد، قال: سألت أبي عن حديث إسماعيل بن علية، عن أيوب، عن أبي معشر، قال: " يكره التكفير في الصلاة "، قال أبي: التكفير: أن يضع يمينه عند صدره في الصلاة) ا.هـ. قال مغلطاي في شرح سنن ابن ماجه (5/131): وفي سؤالات مهنا: قلت لأحمد: ثنا خالد بن خداش، ثنا مهدي بن ميمون، عن عبيدالله بن العيزار، قال: (كنت أطوف مع سعيد بن جبير، وكان مهيبًا، فرأى رجلاً يصلي قد وضع إحدى يديه على الأخرى، فضرب يده)؟ فقال: (إنما رآه قد وضع إحدى يديه على الأخرى، وجعلهما عند صدره؛ لأن ذلك شبه التكفير). وسألته عن ابن العيزار، فقال: (بخ بخ بصري ثقة).

 


اس کے رد میں انگوٹھا چھاپ محقق نے کتاب مسائل الامام احمد لابی داؤد کا ہی انکار کر دیا کہ ایک راوی مجہول ہے اس لئے کتاب ہی ثابت نہیں ۔۔۔

امام احمد بن حنبل رح کے اس موقف کو کئی علماء نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے جن میں ابن قیم رح نے بدائع الفوائد ، ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے شرح العمدہ ، ابن قدامہ رح نے کتاب الصفۃ الصلاۃ لشرح العمدہ میں ، ضیاء الرحمن اعظمی صاحب نے فتح الغفور فی وضع الیدین علی الصدور کی تحقیق میں، ابن مفلح المقدسی رح نے کتاب الفروع میں، امام مغلطائی رح نے شرح سنن ابن ماجہ میں، شیخ ابن جبرین رح نے تسہیل الفقہ میں، شیخ احمد بن محمد الخلیل نے صفۃ الصلؤۃ میں، نقل کیا ہے ۔۔۔۔

کچھ حوالے اوپر موجود ہیں اور چند درج ذیل ہیں ۔۔ ( وضع اليدين ليس فوق الصدر - (قال [الإمام أحمد بن حنبل] في رواية المزني: "[يضع يديه] أسفل السرة بقليل ويكره أن يجعلهما على الصدر "، وذلك لما روى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهي عن التكفير وهو وضع اليد على الصدر.) انتهى - بدائع الفوائد لابن قيم الجوزية. - (وسمعته [أي الإمام أحمد بن حنبل] يقول : "يكره أن يكون"، يعني: وضع اليدين عند الصدر) انتهى -مسائل الإمام أحمد رواية أبي داود السجستاني. - (ويجعلهما تحت سرته، أو تحت صدره، من غير كراهة لواحد منهما، والأول أفضل في إحدى الروايات عنه، اختارها الخرقي والقاضي وغيرهما. روى أحمد وأبو داود والدارقطني عن أبي جحيفة قال: قال علي عليه السلام: إن من السنة وضع الأكف على الأكف تحت السرة. فأما وضعهما على الصدر فيكره، نص عليه. وذكر عن أيوب عن أبي معشر قال: يكره التكفير في الصلاة؛ وقال: التكفير : يضع يمينه عند صدره في الصلاة) انتهى - شرح العمدة لابن تيمية المجلد الثاني صـ 660-664.)







اسکے علاؤہ اسحاق بن راہویہ رح کے حوالے سے انگوٹھا چھاپ اہلحدیث نے ایک پوسٹ لگائی کہ ان کی نزدیک سینہ پر ہاتھ باندھنے چاہیے لیکن وہ حوالہ قنوت نازلہ کا تھا جس میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا زکر نہیں بلکہ قنوت نازلہ میں سینے تک ہاتھ اٹھانے کا تھا جیسا کہ دعا میں اٹھاتے ہیں کیونکہ اس مکمل عبارت میں موجود تھا کہ وہ قنوت نازلہ میں دعا کرتے اور لوگ آمین کہتے اور جبکہ اسی سکین میں محقق نے واضح لکھا ہے کہ اسحاق بن راہویہ رح کا موقف تحت السرہ کا تھا اور اسی کو ترجیح دی گئی ہے جو کہ مسائل امام احمد بن حنبل و اسحاق بن راہویہ میں موجود ہے اور امام منذر رح نے الاوسط میں بھی اسکو نقل کیا ہے۔۔۔ ( قال إسحاق: كما قال تحت السرة أقوى في الحديث وأقرب إلى التواضع و قال ابن المنذر: قال إسحاق: (تحت السرة أقوى في الحديث وأقرب إلى التواضع) . الأوسط 1/94)






ایک سکین انگوٹھا چھاپ اہلحدیث نے علامہ حیات السندی رح کا لگایا تھا کہ ان کے نزدیک سینہ پر ہاتھ باندھنا چاہیے لیکن پوسٹ امام احمد بن حنبل رح کے موقف پر تھی اور سکین علامہ حیات السندی رح کا لگایا ہے ۔۔ علامہ حیات السندی رح کا اپنا موقف سینہ پر ہاتھ باندھنے کا ہی تھا لیکن اسی کتاب میں امام احمد بن حنبل رح کے موقف پر جو اقوال نقل کیے ان میں فوق السرہ یعنی ناف کے اوپر ہاتھ باندھنا یا احناف کہ طرح تحت السرہ یعنی ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کا موقف موجود ہے اور اسی کتاب کے حاشیہ میں محقق ضیاء الرحمن اعظمی صاحب نے وضع الیدین علی الصدر کی کراہت کا قول امام احمد بن حنبل رح کا زکر کیا ہے۔۔۔۔۔




اسکے ساتھ چند لغات کے سکین انگوٹھا چھاپ محقق نے لگائے کہ لغت میں تکفیر سے مراد اہل کتاب کی طرح سینہ پر ہاتھ باندھنا اور رکوع کے بل جھکنا ہے لیکن پوسٹ امام احمد بن حنبل رح کے موقف پر تھی جو کہ واضح ہے کہ ان کے نزدیک تکفیر سے مراد سینہ پر ہاتھ باندھنا ہے جو کہ اس انگوٹھا چھاپ اہلحدیث نے خود لغت سے ثابت بھی کر دیا کہ لغت میں بھی تکفیر سے مراد سینہ پر ہاتھ باندھنا ہی ہے جیسا کہ امام احمد بن حنبل رح کا موقف ہے۔۔۔

 

انگوٹھا چھاپ اہلحدیث نے ایک سکین عبداللہ ابن احمد ابن حنبل رح کا لگایا کہ ان کے نزدیک موقف فوق السرہ یعنی سینہ سے اوپر ہاتھ باندھنا ہے جبکہ مکمل قول جو عبداللہ ابن احمد ابن حنبل رح نے نقل کیا ہے اس میں فوق السرہ کہ دلیل امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تحت السرہ والی روایت کو بنایا گیا ہے۔۔ تو ان کے نزدیک بھی فوق السرہ سے مراد موجودہ انگوٹھا چھاپ اہلحدیثوں کی طرح سینہ پر ہاتھ باندھنا نہیں بلکہ سینہ سے نیچے ناف کے اوپر ہاتھ باندھنا ہے۔۔۔

اسکے علاؤہ امام احمد بن حنبل رح کے نزدیک ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کا موقف راجح ہے اسکا اعتراف خود جمہور حنابلہ کے ساتھ ساتھ اہلحدیث عالم عبد الرحمن مبارکپوری رح نے تحفۃ الاحوزی میں کیا ہے۔۔ (وأما الإمام أحمد رحمه الله فعنه أيضا ثلاث روايات : إحداها : وضعهما تحت السرة ، والثانية : وضعهما تحت الصدر ، والثالثة : التخيير بينهما ، وأشهر الروايات عنه الرواية الأولى ، وعليه جماهير الحنابلة ، هذا كله مأخوذ من فوز الكرام للشيخ محمد قائم السندي ، ودراهم الصرة لمحمد هاشم السندي .) تو ان سارے حوالہ جات سے واضح ہوا کہ امام احمد بن حنبل رح کا موقف ان کے اور جمہور حنابلہ کے نزدیک تحت السرہ یا فوق السرہ کا ہے نہ کہ سینے پر ہاتھ باندھنے کا اور امام احمد بن حنبل رح سینہ پر ہاتھ باندھنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔۔

 


غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام و اہلبیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین محسن اقبال

 

غیر مقلد عالم محی الدین لکھویؒ کا علم غیب۔ کہاں گئے شرک کے فتوے لگانے والےغیر مقلدین

 موجودہ اہلحدیث کہلانے والے نام نہاد محققین دوسروں کی کتب میں موجود  واقعات کو عقیدہ بنا کر پیش کرتے ہیں پھر اس کو علم غیب کا نام دے کر شرک و گمراہی کے فتوے لگاتے ہیں  لیکن اپنے علماء کی کتابیں پڑھنا بھول جاتے ہیں۔مولاناعبدالستار سفری کہتے ہیں کہ ان کے گھر بچہ پیدا ہونے والا تھا اور لیڈی ڈاکٹر نے کہا کہ آپریشن کروانا پڑے گا جس سے بچے اور والدہ کی زندگی کو خطرہ ہے۔ان کو خیال آیا کہ مولانا محی الدین سے دعا کروائی جائے۔ مولانا محی الدین لکھوی نے دو نفل نماز پڑھ کر دعا کی اور مولانا عبدالستار سے فرمایا کہ انشاء اللہ لڑکا پیدا ہو گا، ہسپتال جانے کی بھی ضرورت نہیں،اللہ گھر میں ہی مہربانی کرے گا،پھر مولانا نے ان کی بیوی کے ہاتھوں پر تین بار دم کیا اور کہا کہ اپنے سر سے پاؤں تک ہاتھ پھیر لو۔چار دن گزرے تھے کہ نماز عشاء کے بعد لڑکا پیدا ہوا جسکا نام ناصر ستار رکھا گیا۔(تذکرہ مولانا محی الدین لکھوی،389/390) 

اس واقعہ کے راوی عبدالحفیظ لکھوی لکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ واقعہ تیسری بار تصدیق کے بعد لکھا۔ اب سوال یہ ہے کہ مولانا لکھوی کو کیسے پتا چلا کہ لڑکا پیدا ہو گا اور آپریشن کے بغیر ہو گا کہ ہسپتال جانے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی؟؟؟کیا  مولانا لکھوی عالم الغیب تھے کہ عورت کے پیٹ میں کیا ہے ان کو معلوم ہو گیا؟؟؟ کیا دوسروں پر شرک اور گمراہی کے فتوے لگانے والے اپنے عالم کی اس مستند اور سچی علم غیب والی کرامت پر کچھ عرض کریں گے یا اس کو قرآن وحدیث سے ثابت کریں گے؟؟( غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال)



قبر پر دعا مانگنا اور مردِ غیب کا نمودار ہو کر جنگ میں مدد کرنا۔ غیر مقلد مؤرخ کی کتاب سے

 

غیر مقلدین کے مشہور اور مستند مؤرخ محمد اسحاق بھٹیؒ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ '' جب سلطان حسین شرقی نے بہت بڑی فوج کے ساتھ دہلی پر چڑھائی کی تو بہلول تمام رات خواب قطب الدین بختیار کاکیؒ کے مرقد پر ننگے سر کھڑے ہو کر اللہ سے دعائیں مانگتا رہا، منقول ہے کہ صبح کے وقت ایک مردِ غیب نمودار ہوا اور ایک لکڑی اس کے ہاتھ میں دے کر کامیابی کی بشارت دی۔''(فقہائے ہند، 2/32)اب غیر مقلدین جواب دیں کہ مردِ غیب کب اور کیسے نمودار ہوا؟ اس کو کیسے پتا تھا کہ بہلول کو جنگ میں کامیابی ملے گی؟؟غیر مقلد مؤرخ نے اپنی کتاب میں اس واقعے کو کیوں نقل کیا؟؟ اگر یہی واقعہ دیوبندی کی کتاب میں ہوتا تو اب تک غیر مقلد کتاب کے مصنف پر گمراہی کے فتوے لگا چکے ہوتے۔

غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال



مولانا ابراہیم میر سیالکوٹیؒ اور تصوف و مراقبہ

 

غیر مقلدین کے مشہور عالم ابراہیم میر سیالکوٹیؒ اپنی کتاب میں ''علم اسرار دین و لطائف قران مجید'' کا عنوان دے کر لکھتے ہیں کہ ''اس فن شریف کی قدرو منزلت اور اسکی ضرورت و حاجت کی نسبت خاکسار اپنی طرف سے کچھ نہیں کہنا چاہتا ۔صرف ان بزرگوں کے الفاظ پر اکتفا کرنا چاہتا ہے جن کے فیوض سے یہ ناچیز اور عاجز فیض یاب ہوا۔۔۔اسی طرح حضرت الاستاذ حامل لواءالسنن مولٰنا عبید اللہ غلام حسن سیالکوٹیؒ جن کی فیض صحبت سے اس گنہگار کے ظاہر و باطن پر تو ڈالا اور شریعت حقیقت کے حقائق ومعارف کا دروازہ کھولا اور انکی وفات کے بعض وہ لطف کہیں نہیں پایا۔۔۔۔شاہ ولی اللہؒ کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ ''اس کے بعد اپنا ایک مراقبہ کا ذکر کرتے ہیں جس میں ان روح القدس آنحضرتﷺ کا ظہور ہوا اور آپکو اس علم ( اسرارِ دین) کے بیان کا القاء ہو''۔۔۔شاہ صاحب اپنے ایک مخلص محمد عاشق کی درخواست کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کے اسرار سے مجھے یقین ہو گیا کہ یہ وہ صورت ہے جو مجھے الہام کی گئی۔۔سیالکوٹی صاحب فرماتے ہیں کہ خاکسار گناہ گار بھی محض تحدیثاً بنعمتا اللہ (نہ فخراً کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کو کو بھی اس فن( اسرار دین ولطائف قران مجید) سے کچھ حصہ عطا کیا ہے۔۔۔آگے فرماتے ہیں کہ ''مراقبہ کی حالت میں فیضان الٰہی کا نازل ہونا تو بہت اونچا مقام ہے او میں کہ چکا ہوں کہ واقعی گنہگار ہوں اس لیے وہ مقام مجھے کہاں حاصل ہو سکتا ہے ہا ں فیضان الہی کی دیگر صورتیں بھی ہیں ان میں ایک سچا خواب ہے''(واضح البیان فی تفسیر ام القرآن،39/40/41) تصوف، مراقبہ اور روحانی فیضان پر اعتراض اور گمراہی کے فتوے لگانے والے غیر مقلدین بتائیں گے کہ سیالکوٹی صاحب کس اسرار دین اور  فیضان الہیٰ کی بات کر رہے ہیں جس کی دلیل میں شاہ ولی اللہؒ کا مراقبہ کا ذکر ہوا جس میں نبی کریم ﷺ کی روح کا ظہور ہوا؟؟؟ اور کون سا مراقبہ ہے جس کی حالت میں فیضان الہیٰ حاصل ہوتے ہیں؟؟؟؟




غیر مقلد عالم کو الہام! تم اس علاقہ کے عمر (امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ) ہو۔ کہاں گئے شرک کے فتوے لگانے والے غیر مقلد

 

غیر مقلدین دوسروں کے کشف و کرامات پر تو فتوے لگاتے ہیں لیکن اپنے علماء کی کتابیں پڑھنا بھول جاتے ہیں۔غیر مقلدین کے عالم قاضی غلام حسین کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کے علاقہ میں تشیع کا بہت زور تھا تو ان کو الہام ہوا کہ ''تم اس علاقہ کے عمر ہو'' تو آپ نے تشیع کا بہت رد کیا۔(تذکرہ علمائے خانپور،18) سوال یہ ہے کہ ان کے عالم کو الہام کیسے ہوا؟؟؟ مصنف نے اس کو نقل کیوں کیا؟کیا غیر مقلدین کے نزدیک غیر انبیاء کو الہام ہو سکتا ہے؟؟احناف کے واقعات پر گمراہی و شرک کے فتوے لگانے والے غیر مقلد کیا اب اس مصنف پرگمراہی و  شرک کے فتوے لگائیں گے؟؟؟؟


غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال


جمعہ کے دن مردوں کا زندوں سے ملاقات کرنا اور قبر سے باہر آ کر بیٹھنا۔ شرک کے فتوے لگانے والے غیر مقلدین کے لئے لمحہ فکریہ

 

علامہ ابن قیمؒ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ''جمعہ کےد ن ارواح اپنے قبور کے قریب ہو جاتے ہیں۔۔۔اس دن زندہ اور مردہ آپس میں ملتے ہیں۔۔مطرف بن عبداللہ بدر میں تھے۔وہ ہر جمعہ کو آیا کرتے تھے،ایک دن وہ جمعہ کے دن قبرستان کے قریب تھے تو کہنے لگے:''میں نے ہر قبر والے کو اپنی قبر پر بیٹھے دیکھا۔اس پر لوگ کہنے لگے ،یہ تو مطرف ہے جو ہر جمعہ کو آیا کرتا ہے۔مطرف فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا :کیا تم بھی جمعہ سے واقف ہو؟ وہ کہنے لگے ہاں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس دن پرند کیا کرتے ہیں۔۔(زاد المعاد،1/348) فضائل اعمال میں مردوں کے واقعات پر شرک اور گمراہی فتوے لگانے والے غیر مقلد
ابن قیمؒ پر گمراہی کے فتوے کب لگائیں گے جو مردوں کے زندہ ہونے اور قبر سے باہر نکلنے کا واقعہ اپنی کتاب میں نقل کرتے ہیں۔

غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن اقبال




وحدت الوجود اور غیر مقلد عالم عبداللہ روپڑی


توحیدالٰہی

یہ کہ خدا تعالیٰ خود اپنی ذات میں بغیر اس کے کہ دوسرا اس کی طرف وحدت کی نسبت کرے ازل میں ہمیشہ وحدت سے موصوف رہا چنانچہ حدیث میں ہے۔

’’ کان اللہ ولم یکن معہ شئی‘‘

’’یعنی خدا تعالیٰ تھا اور اس کے ساتھ کوئی دوسری شے نہ تھی ‘‘

اور اب بھی اسی طرح ہے اور ابدالا باد اسی طرح رہے گا چنانچہ قرآن مجید میں ہے:

(کل شئی ہالک الا وجہہ)

’’یعنی ہر شے ہلاکت والی ہے۔مگر خدا کی ذات ۔‘‘

اس آیت میں یہ نہیں کہا کہ ہر شئے ہلاک ہو جائے گی۔ بلکہ ہالک کہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت بھی ہلاکت والی ہے یعنی نیست او رفانی ہے اس کی مثال اس طرح ہے جیسے رسی جلا دی جائے تو اس کے بٹ بدستور نظر آتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ رسی قائم ہے ،حالانکہ حقیقت میں رسی فنا ہو چکی ہے او راس حالت کے مشاہدہ کیلیے قیامت کا حوالہ دینا یہ مجھ یوں کے لیے ہے ورنہ ارباب بصیرت اور اصحاب مشاہدہ جو زمان ومکان کے تنگ کوچہ س یگذر کر خلاصی پا گئے یہ وعدہ ان کے حق میں قیامت تک اُدھار نہیں بلکہ نقد ہے یعنی محجوبوں کے لیے جو مشاہدہ قیامت کو ہو گا۔ ارباب بصیرت کے لیے اس وقت ہو رہا ہے۔

یہ توحید الٰہی نقص وعیب سے بری ہے برخلاف توحید مخلوق کے وہ بوجہ نقص وجود کے ناقص ہے۔

یہ چار قسمیں توحید کی صوفیاء کے ہاں مشہور ہیں۔ اخیر کی دو وہی ہیں جن کے متعلق آپ نے سوال کیا ہے یعنی توحید حالی وحدۃ الشہود ہے اور توحید الٰہی وحدۃ الوجود ہے۔ یہ اصطلاحات زیادہ تر متاخرین صوفیاء( ابن عربی وغیرہ) کی کتب میں پائی جاتی ہیں۔ متقدمین کی کتب میں نہیں۔ ہاں مراد ان کی صحیح ہے، توحید ایمانی اور توحید علمی تو ظاہر ہے توحید حالی کا ذکر اس حدیث میں ہے:

’’ ان تعبداللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک‘‘

’’یعنی خدا کی اس طرح عبادت کر گویا کہ تواس کو دیکھ رہا ہے پس اگر تو نہ دیکھے تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ ‘‘

یہ حالت چونکہ اکثر طور پر ریاضیت اور مجاہدہ سے تعلق رکھتی ہے ، اس لیے یہ عقل سے سمجھنے کی شئے نہیں ہاں اس کی مثال عاشق ومعشوق سے دی جاتی ہے۔عاشق جس پر معشوق کا تخیل اتنا غالب ہوتا ہے کہ تمام اشیاء اس کی نظر میں کالعدم ہوتی ہیں‘ اگر دوسری شئے کا نقشہ اس کے سامنے آتا ہے تو محبوب کاخیال اس کے دیکھنے سے حجاب ہو جاتا ہے گویا ہر جگہ اس کو محبوب ہی محبوب نظر آتا ہے خاص کر خدا کی ذات سے کسی کو عشق ہو جائے تو چونکہ تمام اشیاء اس کے آثار اور صفات کا مظہرہیں اس لیے خدائی عاشق پر اس حالت کا زیادہ اثر ہوتا ہے یہاں تک کہ ہر شئے سے اس کو خدا نظر آتا ہے وہ شئی نظر نہیں آتی ہے جیسے شیشہ دیکھنے کے وقت چہرے پر نظر پڑتی ہے نہ کہ شیشہ پر۔

شیخ مخدوم علی ہجوری رحمہ اللہ معروف بہ داتا گنج بخش جن کا لاہور میں مزار مشہور ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب کشف المحجوب باب مشاہدہ میں صوفیاء کے اقوال اس قسم کے بہت لکھے ہیں جن کا خلاصہ یہی ہے جو بیان ہوا ہے کہ غلبۂ محبت اور کمال یقین کی وجہ سے ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ غیر خدا پر نظر ہی نہیں پڑتی، اسی طرح دوسرے بزرگوں نے اپنی تصانیف میں لکھا ہے مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ خواص کی دو حالتیں ہیں جلوت اور خلوت جلوت لوگوں سے اختلاط اور میل جول کی حالت ہے۔ اور خلوت علیحدگی اور تنہائی کی حالت ہے جس میں ظاہر باطناً خدا کی طرف توجہ ہوتی ہے جلوت میں تبلیع کا کام ہوتا ہے اور خلوت میں نفس کی اصلاح اور دل کی صفائی ہوتی ہے ۔قرآن مجید میں سورۃ مزمل کے شروع میں ان دونوں حالتوں کا بیان ہے چنانچہ ارشاد ہے:

(اِِنَّ نَاشِءَۃَ الَّیْلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّاَقْوَمُ قِیْلًا o اِِنَّ لَکَ فِی النَّہَارِ سَبْحًا طَوِیْلًا )

’’یعنی رات کا قیام نفس کے لتاڑنے کے لیے سخت ہے اور زبان کو بہت درست رکھنے والا ہے، بے شک تجھے دین میں طویل شغل ہے۔‘‘

ان دونوں آیتوں میں ان دونوں حالتوں کا ذکر ہے جن کی یہ دونوں حالتیں قائم ہیں ان کی تو ریس ہی نہیں اول نمبر ان میں انبیاء علیہم السلام کا ہے پھر درجہ بدرجہ ان کے جانشنیوں کا ہے ، جو لوگ ساری عمر خلوت میں گذارتے ہیں اگرچہ ان کی حالت مشاہدہ زیادہ ہوتی ہے مگر چونکہ یہ چیز صرف ان کی ذات سے تعلق رکھتی ہے اس میں متعدی فائدہ نہیں اس لیے وہ علماء ربانیین کا مقابلہ نہیں کر سکتے اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے چودہویں رات کے چاند کی ستاروں پر اور دوسری حدیث میں ہے جیسی میری تمہارے ادنیٰ پر (مشکوٰۃ کتاب العلم فصل ۲)

پس انسان کوچاہیے کہ توحید حالی حاصل کرتے ہوئے افضل مرتبہ ہاتھ سے نہ دے، جو محض گوشۂ نشینی کو بڑا کمال سمجھے ہوئے ہیں اور اپنی عمر اسی میں گذار دیتے ہیں وہ علمائے ربانی کی نسبت بڑے خسارہ میں ہیں اگرچہ ذاتی طور پر ان کی طبیعت کو اطمینان وسکون زیادہ ہو اور ذوق عبادت اور حلاوت ذکر میں خواہ کتنے بڑھے ہوئے ہوں، مگر علمائے ربانی کا متعدی فائدہ اس سے بڑھ جاتا ہے، کیونکہ شیطان کا اصل مقابلہ کرنے والی یہی( علمائے ربانی) کی جماعت ہے ،عابد ریاضت اور مجاہدہ سے صرف اپنی خواہشات کو دباتا ہے اور یہ جماعت ہزاروں کی اصلاح کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

’’ہزار عابد سے شیطان اتنا نہیں ڈرتا جتنا ایک عالم سے (ڈرتا ہے۔) (مشکوٰۃ: کتاب العلم، فصل ۲)

خدا ہمیں بھی ربانی علماء سے کرے اور انہی کے زمرہ میں اٹھائے۔ آمین!

اب رہی توحید الٰہی سوا اس کے متعلق بہت دنیا بہکی ہوئی ہے ، بعض تواس کا مطلب ہمہ اوست سمجھتے ہیں یعنی ہر شئے عین خدا ہے ، جیسے برف اور پان بظاہر دو معلوم ہوتے ہی مگر حقیقت ایک ہے اسی طرح خدا اور دیگر موجودات وحدت حقیقی کا عکس ہیں جیسے ایک شخص کے اردگرد کئی شیشے رکھ دئیے جائیں تو سب میں اس کا عکس پڑتا ہے، ایسے ہی خدا اصل ہے اور باقی اشیاء اس کا عکس ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ کلی جزی کی مثال ہے جیسے انسان اور زد عمر بکر ہیں حقیقت سب کی خدا ہے اور یہ تعینات حوادث ہیں، غرض دنیا عجیب گھور کھد ہندے میں پڑی ہوئی ہے کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ۔

صحیح راستہ اس میں یہ ہے کہ اگر اسکا مطلب یہ سمجھا جائے کہ سوا خدا کے کوئی شئے حقیقۃ موجود نہیں اور یہ جو کچھ نظر آرہا ہے یہ محض توہمات ہیں جیسے سو فسطائیہ فرقہ کہتا ہے کہ آگ کی گرمی اور پانی کی برددت وہمی اور خیالی چیز ہے تو یہ سراسر گمراہی ہے ۔ اور اگر اس کایہ مطلب ہے کہ یہ موجودات انسانی ایجادات کی طرح نہیں کہ انسان کے فنا ہونے کے بعد بھی باقی رہتی ہیں بلکہ یہ ان کا وجود خدا کے سہارے پر ہے اگر ادھر سے قطع تعلق فرض کیا جائے تو ان کا کوئی وجود نہیں، تو یہ مطلب صحیح ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے بجلی کا کرنٹ (برقی رو) قمقموں کے لیے ہے۔ گویا حقیقت میں اس وقت بھی ہر شئے فانی ہے مگر ایک علمی رنگ میں اس کوسمجھنا ہے اور ایک حقیقت کا سامنے آنا ہے علمی رنگ میں تو سمجھنے والے بہت ہیں مگر حقیقت کا اس طرح سامنے آنا جیسے آنکھوں سے کوئی شئے دیکھی جاتی ہے یہ خاص ارباب بصیرت کا حصہ ہے گویا قیامت والی فنا اس وقت ان کے سامنے ہے پس یہ آیت کریمہ(کل شئی ہالک الا ربہہ) ان کے حق میں نقد ہے نہ ادھار۔

نوٹ! ابن عبری، رومی اور جامی رحمہم اللہ وغیرہ کے کلمات اس توحید میں مشتبہ ہیں اس لیے بعض لوگ ان کے حق میں اچھا اعتقاد رکھتے ہیں بعض برا۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ وغیرہ ابن عربی رحمہ اللہ سے بہت بدظن ہیں۔ اسی طرح رومی، اور جامی کو کئی علماء برا کہتے ہیں مگر میرا خیال ہے کہ جب ان کا کلام متحمل ہے جیسے جامی کا کلام اوپر نقل ہو چکا ہے اور وہ درحقیقت ابن عربی کا ہے کیونکہ ابن عربی کی کتاب عوارف المعارف سے ماخوذ ہے تو پھر ان کے حق میں سوء ظنی ٹھیک نہیں اسی طرح رومی کا خیال کر لینا چاہئے ،غرض حتی الوسع فتویٰ میں احتیاط چاہئے جب تک پوری تسلی نہ ہو فتویٰ نہ لگانا چاہئے خاص کر جب وہ گذ چکے اور ان کا معاملہ خدا کے سپرد ہو چکا تو اب کرید کی کیا ضرورت؟ بلکہ صرف اس آیت پر کفایت کرنی چاہئے:

(تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَ لَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ وَ لَا تُسْءَلُوْنَ عَمَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْن)

نوٹ! ابن عربی رحمہ اللہ وغیرہ کا کچھ ذکر تنظیم جلد ۹ نمبر ۲۲ مورخہ ۲۹ مارچ ۱۹۴۰ء مطابق ۲۰ صفر المظفر ۱۳۵۹ھ میں بھی ہو چکا ہے اور رسالہ تعریف اہلسنت کے صفحہ ۳۶۵،۳۶۶ میں بھی ہم اس کے متعلق کافی لکھ چکے ہیں زیادہ تفصیل مطلوب ہو تو وہاں ملاحظہ ہو۔ (فتاویٰ اہلحدیث روپڑی جلد اول،صفحہ ۱۵۰،۱۵۱)