کچھ دن پہلے خود کو اہلحدیث کہلانے والے ایک انگوٹھا چھاپ نے کچھ سکین لگائے کسی حنفی دوست کی پوسٹ کے رد میں کہ امام احمد بن حنبل رح کا موقف نماز میں ہاتھ باندھنے کے متعلق کراہت کا نہیں تھا بلکہ سینہ پر ہاتھ باندھنے کا تھا۔۔۔
امام احمد بن حنبل رح کا موقف
ان کے نزدیک اور فقہائے حنابلہ کے نزدیک تحت السرہ کا تھا یا فوق السرہ یعنی ناف کے
اوپر ہاتھ باندھنے کا تھا اور ان کے نزدیک اسکی دلیل امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ
عنہ کی تحت السرہ کی روایت ہے جو کہ اکثر حنابلہ فقہا کی کتب میں موجود ہے اور امام
احمد بن حنبل رح کے نزدیک سینہ پر ہاتھ باندھنا تکفیر یعنی کراہت ہے اور ان کا یہ موقف
بھی واضح ہے۔۔
انگوٹھا چھاپ محقق نے ابن قیم
رح کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ ان کے نزدیک امام احمد بن حنبل رح کا التکفیر وضع الیدین
علی الصدر کا قول مجہول ہے جبکہ اصل میں امام احمد بن حنبل رح کے نزدیک تکفیر سے مراد
وضع الیدین علی الصدر یعنی سینہ پر ہاتھ باندھنا ہے ( واختلف في موضع الوضع فعنه فوق
السرة وعنه تحتها وعنه أبو طالب سألت أحمد أين يضع يده إذا كان يصلي؟ قال: "على
السرة أو أسفل وكل ذلك واسع عنده إن وضع فوق السرة أو عليها أو تحتها" علي رضي
الله عنه: "من السنة في الصلاة وضع الأكف على الأكف تحت السرة" عمرو بن مالك
عن أبي الجوزاء عن ابن عباس مثل تفسير علي إلا أنه غير صحيح، والصحيح حديث علي قال
في رواية المزني: "أسفل السرة بقليل ويكره أن يجعلهما على الصدر " وذلك لما
روى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهي عن التكفير وهو وضع اليد على الصدر.) بدائع
الفوائد (3/982): (قال -يعني: الإمام أحمد- في رواية المزني: أسفل السرة بقليل، ويكره
أن يجعلهما على الصدر؛ وذلك لما روي عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه نهى عن التكفير).
قال الشيخ علي العمران في حاشيته: (لم أره مسندًا، وذكره ابن أبي يعلى في الطبقات
(1/16) عن عبدالله بن أحمد، قال: سألت أبي عن حديث إسماعيل بن علية، عن أيوب، عن أبي
معشر، قال: " يكره التكفير في الصلاة "، قال أبي: التكفير: أن يضع يمينه
عند صدره في الصلاة) ا.هـ. قال مغلطاي في شرح سنن ابن ماجه
(5/131): وفي سؤالات مهنا: قلت لأحمد: ثنا خالد بن خداش، ثنا مهدي بن ميمون، عن عبيدالله
بن العيزار، قال: (كنت أطوف مع سعيد بن جبير، وكان مهيبًا، فرأى رجلاً يصلي قد وضع
إحدى يديه على الأخرى، فضرب يده)؟ فقال: (إنما رآه قد وضع إحدى يديه على الأخرى، وجعلهما
عند صدره؛ لأن ذلك شبه التكفير). وسألته عن ابن العيزار، فقال: (بخ بخ بصري ثقة).
اس کے رد میں انگوٹھا چھاپ محقق
نے کتاب مسائل الامام احمد لابی داؤد کا ہی انکار کر دیا کہ ایک راوی مجہول ہے اس لئے
کتاب ہی ثابت نہیں ۔۔۔
امام احمد بن حنبل رح کے اس
موقف کو کئی علماء نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے جن میں ابن قیم رح نے بدائع الفوائد
، ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے شرح العمدہ ، ابن قدامہ رح نے کتاب الصفۃ الصلاۃ لشرح العمدہ
میں ، ضیاء الرحمن اعظمی صاحب نے فتح الغفور فی وضع الیدین علی الصدور کی تحقیق میں،
ابن مفلح المقدسی رح نے کتاب الفروع میں، امام مغلطائی رح نے شرح سنن ابن ماجہ میں،
شیخ ابن جبرین رح نے تسہیل الفقہ میں، شیخ احمد بن محمد الخلیل نے صفۃ الصلؤۃ میں،
نقل کیا ہے ۔۔۔۔
کچھ حوالے اوپر موجود ہیں اور چند درج ذیل ہیں ۔۔ ( وضع اليدين ليس فوق الصدر - (قال [الإمام أحمد بن حنبل] في رواية المزني: "[يضع يديه] أسفل السرة بقليل ويكره أن يجعلهما على الصدر "، وذلك لما روى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهي عن التكفير وهو وضع اليد على الصدر.) انتهى - بدائع الفوائد لابن قيم الجوزية. - (وسمعته [أي الإمام أحمد بن حنبل] يقول : "يكره أن يكون"، يعني: وضع اليدين عند الصدر) انتهى -مسائل الإمام أحمد رواية أبي داود السجستاني. - (ويجعلهما تحت سرته، أو تحت صدره، من غير كراهة لواحد منهما، والأول أفضل في إحدى الروايات عنه، اختارها الخرقي والقاضي وغيرهما. روى أحمد وأبو داود والدارقطني عن أبي جحيفة قال: قال علي عليه السلام: إن من السنة وضع الأكف على الأكف تحت السرة. فأما وضعهما على الصدر فيكره، نص عليه. وذكر عن أيوب عن أبي معشر قال: يكره التكفير في الصلاة؛ وقال: التكفير : يضع يمينه عند صدره في الصلاة) انتهى - شرح العمدة لابن تيمية المجلد الثاني صـ 660-664.)
اسکے علاؤہ اسحاق بن راہویہ
رح کے حوالے سے انگوٹھا چھاپ اہلحدیث نے ایک پوسٹ لگائی کہ ان کی نزدیک سینہ پر ہاتھ
باندھنے چاہیے لیکن وہ حوالہ قنوت نازلہ کا تھا جس میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا زکر
نہیں بلکہ قنوت نازلہ میں سینے تک ہاتھ اٹھانے کا تھا جیسا کہ دعا میں اٹھاتے ہیں کیونکہ
اس مکمل عبارت میں موجود تھا کہ وہ قنوت نازلہ میں دعا کرتے اور لوگ آمین کہتے اور
جبکہ اسی سکین میں محقق نے واضح لکھا ہے کہ اسحاق بن راہویہ رح کا موقف تحت السرہ کا
تھا اور اسی کو ترجیح دی گئی ہے جو کہ مسائل امام احمد بن حنبل و اسحاق بن راہویہ میں
موجود ہے اور امام منذر رح نے الاوسط میں بھی اسکو نقل کیا ہے۔۔۔ ( قال إسحاق: كما
قال تحت السرة أقوى في الحديث وأقرب إلى التواضع و قال ابن المنذر: قال إسحاق: (تحت
السرة أقوى في الحديث وأقرب إلى التواضع) . الأوسط 1/94)
ایک سکین انگوٹھا چھاپ اہلحدیث
نے علامہ حیات السندی رح کا لگایا تھا کہ ان کے نزدیک سینہ پر ہاتھ باندھنا چاہیے لیکن
پوسٹ امام احمد بن حنبل رح کے موقف پر تھی اور سکین علامہ حیات السندی رح کا لگایا
ہے ۔۔ علامہ حیات السندی رح کا اپنا موقف سینہ پر ہاتھ باندھنے کا ہی تھا لیکن اسی
کتاب میں امام احمد بن حنبل رح کے موقف پر جو اقوال نقل کیے ان میں فوق السرہ یعنی
ناف کے اوپر ہاتھ باندھنا یا احناف کہ طرح تحت السرہ یعنی ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے
کا موقف موجود ہے اور اسی کتاب کے حاشیہ میں محقق ضیاء الرحمن اعظمی صاحب نے وضع الیدین
علی الصدر کی کراہت کا قول امام احمد بن حنبل رح کا زکر کیا ہے۔۔۔۔۔
اسکے ساتھ چند لغات کے سکین
انگوٹھا چھاپ محقق نے لگائے کہ لغت میں تکفیر سے مراد اہل کتاب کی طرح سینہ پر ہاتھ
باندھنا اور رکوع کے بل جھکنا ہے لیکن پوسٹ امام احمد بن حنبل رح کے موقف پر تھی جو
کہ واضح ہے کہ ان کے نزدیک تکفیر سے مراد سینہ پر ہاتھ باندھنا ہے جو کہ اس انگوٹھا
چھاپ اہلحدیث نے خود لغت سے ثابت بھی کر دیا کہ لغت میں بھی تکفیر سے مراد سینہ پر
ہاتھ باندھنا ہی ہے جیسا کہ امام احمد بن حنبل رح کا موقف ہے۔۔۔
انگوٹھا چھاپ اہلحدیث نے ایک
سکین عبداللہ ابن احمد ابن حنبل رح کا لگایا کہ ان کے نزدیک موقف فوق السرہ یعنی سینہ
سے اوپر ہاتھ باندھنا ہے جبکہ مکمل قول جو عبداللہ ابن احمد ابن حنبل رح نے نقل کیا
ہے اس میں فوق السرہ کہ دلیل امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تحت السرہ والی
روایت کو بنایا گیا ہے۔۔ تو ان کے نزدیک بھی فوق السرہ سے مراد موجودہ انگوٹھا چھاپ
اہلحدیثوں کی طرح سینہ پر ہاتھ باندھنا نہیں بلکہ سینہ سے نیچے ناف کے اوپر ہاتھ باندھنا
ہے۔۔۔
اسکے علاؤہ امام احمد بن حنبل
رح کے نزدیک ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کا موقف راجح ہے اسکا اعتراف خود جمہور حنابلہ
کے ساتھ ساتھ اہلحدیث عالم عبد الرحمن مبارکپوری رح نے تحفۃ الاحوزی میں کیا ہے۔۔
(وأما الإمام أحمد رحمه الله فعنه أيضا ثلاث روايات : إحداها : وضعهما تحت السرة ،
والثانية : وضعهما تحت الصدر ، والثالثة : التخيير بينهما ، وأشهر الروايات عنه الرواية
الأولى ، وعليه جماهير الحنابلة ، هذا كله مأخوذ من فوز الكرام للشيخ محمد قائم السندي
، ودراهم الصرة لمحمد هاشم السندي .) تو ان سارے حوالہ جات سے واضح ہوا کہ امام احمد
بن حنبل رح کا موقف ان کے اور جمہور حنابلہ کے نزدیک تحت السرہ یا فوق السرہ کا ہے
نہ کہ سینے پر ہاتھ باندھنے کا اور امام احمد بن حنبل رح سینہ پر ہاتھ باندھنے کو مکروہ
سمجھتے تھے۔۔
غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ
علیہ وسلم ، صحابہ کرام و اہلبیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین محسن اقبال













