غیر مقلد نواب صدیق حسن خان
اپنی صحیح اور علم الھدیٰ کتاب میں جعرانہ کے عمرہ کے فضائل بیان کرتے ہیں۔جعرانہ میں
عمرہ کرنے سے نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوتی ہے۔عبدالوہاب متقی کہتے ہیں کہ میں سو گیا اور
خواب میں تھا۔جتنی بار آنکھ کھلی اور بند ہوتی اتنی بار نبی کریم ﷺ کا دیدار ہوتا۔ان
کا معمول تھا کہ جعرانہ کا عمرہ ادا کرنے کے لئے روزہ دار اور پیدل جایا کرتے تھے،
جعرانہ ایک گاؤں سے جو مکہ مکرمہ سے کچھ مسافت پر ہے، یہاں نبی کریم ﷺ نے غزوہ حنین
کی غنیمتیں تقسیم کرنے کے لئے یہاں قیام فرمایا تھااور عمرہ فرمایا تھا۔پس اس نیت سے
جعرانہ کا عمرہ ادا کیا جائے تو شاید وہاں اس نعمت سے نوازا جائے۔(تقصار،179)
غیر مقلدین
کے اصول کےمطابق کتاب میں کسی بزرگ کا واقعہ نقل کرنے سے وہ بزرگ اسی مسلک کا ہوتا
ہے۔اور وہ واقعہ بھی عقیدہ کے طور پر ثابت ہوتا ہے۔نواب کے مطابق اس کتاب میں انہوں
نے ضعیف اقوال کو چھوڑ دیا اور الصح الصحیح اعمال کو نقل کیا ہے۔(خود نوشت سوانح،133)نواب
کے مطابق یہ کتاب اور اس میں نقل کئے جانے والے واقعات صحیح ہیں۔ غیر مقلد نواب نے اس واقعہ کو عبدالوہاب متقی کے
حالات میں بیان کیا اور اس کارد نہیں کیا تو ثابت ہوا کہ یہ واقعہ نواب صدیق حسن کے
نزدیک صحیح ہے اور عمرہ ادا کرنے والے بزرگ بھی غیر مقلدین کے ہیں۔فضائل اعمال کے واقعات
پر شرک کے فتوے لگانے والے غیر مقلد جعرانہ کے عمرہ کو قرآن و حدیث سے ثابت کریں گے
یا ایسا واقعہ نقل کرنے پر نواب صدیق حسن خان پر شرک کا فتوے لگائیں گے؟
غیر مقلدین کے اصول کے تحت
سوال ہے کہ نواب نے ایسا واقعہ کیوں نقل کیا؟ اگر جعرانہ کے فضائل موجود نہیں تو نواب
نے اس واقعہ کا رد کیوں نہیں کیا؟ کیا نواب
صدیق حسن خان غیر مقلدین کے اپنے اصول کے تحت مشرک ہے یا نہیں؟
غلامِ خاتم النبیین ﷺ، محسن
اقبال

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں