غیر مقلدین کی عادت ہے کہ وہ دیوبندیوں کی کتاب
سےکرامات و کشف کا ایک واقعہ نقل کرتے ہیں
اور اس کو لوگوں کے سامنے عقیدہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور اعتراض یہ ہوتا ہے کہ دیوبندیوں
نے کتاب میں لکھ دیا تو سمجھو یہ دیوبندیوں کا عقیدہ ہو گیااور یہ بزرگ بھی دیوبندیوں
کا ہو گیا ۔غیر مقلدین کے اسی اصول کے تحت غیر مقلدین کے مشہور عالم نواب صدیق حسن
خان کی کتاب سے حوالہ نقل ہے ،
نواب صدیق حسن خان اپنی علم الھدیٰ کتاب میں
لکھتے ہیں کہ''شیخ محمد ملاوہ ایک دن سماع میں وجد میں تھےکہ ایک غیر مسلم سردار کا
گزر ہوا۔ جیسے ہی اس نے شیخ کا چہرہ دیکھا تو بےہوش ہوا اور ساتھ آنے والے ہندو کو
بولا کہ پکڑو ورنہ میں گیا۔جب ہوش آیا تو بولا کہ یہ مسلمان خدا کو بغل میں لے کر بیٹھا
تھا ، اگر مجھے باہر نہیں نکالتے تو میں اس کے دین میں شامل ہو جاتا۔۔(تقصار،162)نواب
کے مطابق اس کتاب میں انہوں نے ضعیف اقوال کو چھوڑ دیا اور الصح الصحیح اعمال کو نقل
کیا ہے۔(خود نوشت سوانح،133)نواب کے مطابق یہ کتاب اور اس میں نقل کئے جانے والے واقعات
صحیح ہیں۔
غیر مقلد بزرگ وجد میں کیسے گیا؟؟ غیر مقلدین
کے بزرگ نے خدا کو بغل میں کیسے لیا؟؟ کیا
اپنی کتابوں میں ایسا واقعہ نقل کرنا جائز
ہے؟ نواب صدیق حسن خان پر ایسا واقعہ نقل کرنے پر گستاخی و شرک کا فتوی لگے گا یا نہیں؟
مولانا زکریا اگر فضائل اعمال میں واقعات نقل کرنے کی وجیہ سے گمراہ و مشرک ہیں تو کیا نواب صدیق حسن خان اپنی کتاب میں ایسے واقعات
نقل کرنےپر گمراہ و مشرک کیوں نہیں؟؟
غلامِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم، محسن
اقبال

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں